0

رامبن واقعہ: پولیس کی تیزی سے کارروائی، چار ملزمین گرفتار، جائے وقوع پر مقامی لوگوں کا احتجاج، ریسکیو آپریشن جاری

جموں: عقاب نیوز ڈیسک///جموں کشمیر کے ضلع رامبن کے مگركوٹ علاقے میں پیش آئے گائے رکھشکوں کی جانب سے ایک شخص کو نالے میں پھینکے جانے کے مبینہ واقعہ پر جہاں سیاسی رہنماؤں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، وہیں دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ تاحال کسی بھی شخص کی لاش برآمد نہیں ہوئی ہے اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اب تک کسی بھی ہلاکت کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے، جب کہ سیاسی بیانات میں قتل کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔

پولیس کی تیزی سے کارروائی، چار ملزمین گرفتار، ریسکیو آپریشن جاری

ضلع رامبن کے مگركوٹ علاقے میں پیش آئے مبینہ واقعہ میں دوسرے دن اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس کیس میں چار ملزمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن کی شناخت دگ وجے سنگھ، کیول سنگھ، سرجیت سنگھ اور سندیپ کے طور پر ہوئی ہے، جو سبھی ضلع رامبن کے رہائشی ہیں۔ اس سلسلے میں تھانہ رامسو میں ایف آئی آر نمبر 26/2026 درج کی گئی ہے۔ پولیس اور دیگر ایجنسیاں علاقے میں مسلسل تلاشی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جب کہ ریسکیو آپریشن بھی بدستور جاری ہے۔

تمام ملزمین کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

قبل ازیں مگرکوٹ میں جائے وقوعہ پر بڑی تعداد میں مقامی لوگ جمع ہو گئے اور احتجاج کرتے ہوئے واقعے میں ملوث تمام ملزمین کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے نعرے بازی کرتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد انصاف فراہم کیا جائے۔ ادھر پولیس، کیو آر ٹی ٹیموں اور دیگر اداروں کی نگرانی میں علاقے میں ریسکیو آپریشن تیزی سے جاری ہیں۔

ڈرونز کی مدد سے سرچ آپریشن

ضلع رامبن کے مگركوٹ علاقے میں پیش آئے مبینہ واقعہ کے دوسرے دن ریسکیو آپریشن آج صبح دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس، مقامی این جی او کیو آر ٹی کی مشترکہ ٹیمیں علاقے میں تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر رامبن محمد الیاس کے مطابق دشوار گزار اور گہری کھائیوں پر مشتمل اس علاقے میں ڈرونز کی مدد سے سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔

واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول

دوسری جانب مقامی لوگوں کے مطابق احتیاطی اقدام کے طور پر ضلع رامبن میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو ڈاؤن گریڈ کیا گیا تاہم پولیس نے ای ٹی وی بھارت کو اس بات کی تصدیق نہیں کی۔ مقامی لوگوں کے مطابق موبائل انٹرنیٹ سروس کو ڈاؤن گریڈ کیے جانے کے باعث علاقے میں ڈیٹا اسپیڈ متاثر ہوئی ہے۔ جس سے صارفین کو سست رفتار انٹرنیٹ تک محدود رسائی اور ویڈیو اسٹریمنگ یا بڑی فائلز ڈاؤن لوڈ کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول پایا جا رہا ہے اور لوگ بڑی تعداد میں جائے وقوعہ کے اطراف جمع ہو رہے ہیں۔

بیان میں پولیس نے کیا کہا؟

پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک کسی بھی شخص کی لاش برآمد نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کسی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ جب تک ریسکیو آپریشن مکمل نہیں ہوتا کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔

علاقے میں شرپسند عناصر کا خوف و دہشت

واضح رہے کہ گزشتہ روز رامبن کے سب ڈویژن رامسو علاقے میں 22 سالہ تنویر احمد چوپان ولد عبدالسلام چوپان نام کا شخص تشویشناک صورت حال میں لاپتہ ہو گیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس نے مبینہ طور پر شرپسند عناصر سے بچنے کی کوشش میں نالے میں چھلانگ لگا دی۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔

دودھ دینے والی گائے اور دو بچھڑے، پھر بھی شک

یہ واقعہ اتوار کے روز مکرکوٹ کے قریب جموں–سرینگر قومی شاہراہ (NH-44) پر ٹنل نمبر 5 کے نزدیک پیش آیا۔ لاپتہ ڈرائیوار کا تعلق تحصیل اُکھرال کے گاؤں منڈکھل پوگل سے ہے۔ وہ جموں سے اپنے آبائی گاؤں جا رہا تھا اور اپنی ٹاٹا موبائل گاڑی میں ایک دودھ دینے والی گائے اور دو بچھڑے بھی لے جا رہا تھا۔

دو گاڑیوں میں سوار مبینہ گئو رکشکوں کا حملہ

مقامی لوگوں کے مطابق، دو گاڑیوں میں سوار مبینہ گئو رکشکوں نے ڈیگڈول کے قریب ان کا پیچھا کیا۔ مکرکوٹ پہنچنے پر ان افراد نے ان کی گاڑی روک لی، انہیں باہر نکالا اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس دوران اپنی جان بچانے کی کوشش میں وہ قریبی نالہ بشلاری میں یا تو خود کود گئے یا انہیں دھکا دے دیا گیا۔(ETV BHARAT)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں