گردواروں میں سکھ برادری کی حاضری، لنگر اور میل جول؛ کشمیر کی ہم آہنگی کی روایت ایک بار پھر نمایاں
باغات، پارکوں میں گہما گہمی، امن و بھائی چارے کیلئے خصوصی دعائیں
سرینگر//14اپریل// وادی کشمیر میں بیساکھی کا تہوار مذہبی عقیدت، روایتی جوش و خروش اور باہمی ہم آہنگی کے ماحول میں منایا گیا، جہاں سکھ برادری کے ساتھ دیگر مذاہب کے لوگوں نے بھی اس خوشی میں بھرپور شرکت کی۔یو این ایس کے مطابق وادی بھر کے گردواروں میں صبح سے ہی عقیدت مندوں کا تانتا بندھا رہا، جہاں خصوصی دعاو ¿ں، بھجن کیرتن اور مذہبی رسومات کا اہتمام کیا گیا۔ سرینگر کے چٹی پادشاہی، کٹھی دروازہ اور رعناواری کے گردواروں میں سب سے زیادہ رش دیکھنے کو ملا، جبکہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور ا ±وڑی اور جنوبی کشمیر کے مٹن، سنگھ پورہ اور ہٹمورا میں بھی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر سکھ برادری اور مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے لنگر کا وسیع انتظام کیا گیا، جہاں ہر طبقے اور مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ کئی مقامات پر طبی کیمپ بھی قائم کیے گئے تاکہ عقیدتمندوں کو سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اس موقع پر پولیس اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے گردواروں کا دورہ کر کے اپنی حاضری دی اور عقیدت کا اظہار کیا۔ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی بیساکھی کی تقریبات منعقد ہوئیں، جہاں لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔بیساکھی، جو فصل کی کٹائی کے موسم کے آغاز کی علامت ہے، 1699 میں گرو گوبند سنگھ کے ہاتھوں خالصہ پنتھ کے قیام کی یاد بھی دلاتی ہے۔تقریبات کے دوران عقیدت مندوں نے بھجن کیرتن اور دیگر مذہبی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ سکھ برادری اور مختلف غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کی جانب سے لنگر کا اہتمام کیا گیا، جبکہ طبی کیمپ بھی لگائے گئے تاکہ لوگوں کو سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ادھر، بڑی تعداد میں لوگوں نے وادی کے سیاحتی مقامات اور باغات کا رخ کیا۔ مغل باغات، ٹیولپ گارڈن اور دیگر پارکوں میں لوگوں کا ہجوم دیکھنے کو ملا جہاں سکھ برادری کے افراد اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ خوشیاں مناتے نظر آئے۔معروف سیاحتی مقامات جیسے پہلگام اور دودھ پتھری میں بھی تقریبات منعقد ہوئیں، جہاں اکثریتی مسلم برادری کے افراد نے بھی شرکت کر کے بین المذاہب ہم آہنگی کی عمدہ مثال پیش کی۔بیساکھی، جو پنجاب میں فصلِ ربیع کی کٹائی اور شمسی سال کے آغاز کی علامت ہے، کشمیر میں بھی ایک اہم ثقافتی اور سماجی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہاں یہ تہوار صرف مذہبی نہیں بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی، بھائی چارے اور مشترکہ ثقافتی ورثے کی علامت بن چکا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق کشمیر میں بیساکھی کی ایک خاص روایت رہی ہے جہاں مسلم، سکھ اور دیگر برادریاں ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک ہو کر یکجہتی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ تاریخی طور پر مغل باغات میں اس دن خصوصی رونق ہوا کرتی تھی، اور آج بھی لوگ شالیمار، نشاط اور سمیت مختلف پارکوں کا رخ کرتے ہیں۔خوشگوار موسم کے باعث پارکوں اور باغات میں لوگوں کی بڑی تعداد دیکھی گئی، جہاں خاندانوں اور دوستوں نے اس دن کو یادگار بنانے کیلئے وقت گزارا۔ سکھ برادری کے افراد روایتی لباس میں ملبوس نظر آئے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے رہے۔انتظامیہ کی جانب سے تہوار کے پیش نظر تمام ضروری انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ ٹریفک پولیس نے اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات کر کے آمد و رفت کو رواں رکھنے کیلئے خصوصی اقدامات کیے۔تقریبات کے دوران امن، بھائی چارے اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں بھی مانگی گئیں، جس نے کشمیر کی صدیوں پرانی ہم آہنگی اور مشترکہ ثقافت کی روایت کو ایک بار پھر اجاگر کیا۔
