0

کشمیر میں منشیات کے خلاف علما کا متحدہ محاذ، خطبات میں سخت پیغام

نوجوان نسل تباہ ہو رہی ہے، اب اجتماعی اقدام ناگزیر: ائمہ مساجد کی اپیل
نشہ مکت جے اینڈ کے مہم” کے تحت مساجد کو سماجی اصلاح کے مرکز کے طور پر استعمال

سرینگر//18اپریل/ کشمیر بھر میں خطبات کے دوران ائمہ مساجد نے منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف ایک مضبوط اور متحد آواز بلند کرتے ہوئے اسے وادی کے نوجوانوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا اور عوام سے فوری اور اجتماعی اقدام کی اپیل کی۔حکومت کی جانب سے شروع کی گئی نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان کے تحت اس وسیع مہم میں مذہبی رہنماو ¿ں کو فعال کردار دیا گیا ہے، جنہوں نے اپنے خطبات میں منشیات کے نقصانات، اس کے سماجی اثرات اور اس سے بچاو ¿ کے طریقوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔جامع مسجد سرینگر سے لے کر اننت ناگ، بانڈی پورہ، کپواڑہ، بارہمولہ اور شوپیان کے چھوٹے بڑے مساجد تک، ائمہ نے اپنے خطبات کا بڑا حصہ اس مسئلے کے لیے مخصوص کیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ نشہ نہ صرف ایک فرد کی زندگی کو تباہ کرتا ہے بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کو بھی متاثر کرتا ہے۔یو این ایس کے مطابق علمائے کرام نے اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر قسم کی نشہ آور اشیاءحرام ہیں اور ان سے دور رہنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ایک خطیب نے اپنے خطاب میں کہا”نشہ صرف ایک ذاتی کمزوری نہیں بلکہ ایک سماجی اور اخلاقی بحران ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم لوگوں کو اس تباہی سے بچائیں اور انہیں ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلائیں۔“وادی بھر میں دیے گئے جاریہ خطبات میں ایک جیسے نکات پر زور دیاجا رہا ہئے جن میں انسانی جان کی حرمت، منشیات کے خطرات اور بروقت مداخلت کی اہمیت شامل تھی۔ ائمہ نے والدین کو ہدایت دی کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں، نوجوانوں کو بری صحبت سے بچنے کا مشورہ دیا اور معاشرے سے اپیل کی کہ وہ نشے کے شکار افراد کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ان کی بحالی میں مدد کریں۔یہ اقدام ایک اہم حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت مساجد کو صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ سماجی رہنمائی اور اصلاح کا مرکز بنایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق حالیہ برسوں میں وادی میں منشیات کا مسئلہ تیزی سے بڑھا ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں اس کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کشمیر میں ہزاروں افراد منشیات کے عادی ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے اور تقریباً 95 فیصد افراد ہیروئن کے عادی ہیں، جو اس بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔حکام کا ماننا ہے کہ مذہبی پلیٹ فارم کے ذریعے دیے جانے والے پیغامات لوگوں کے رویوں میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں، کیونکہ مساجد عوامی شعور بیدار کرنے کا ایک مو ¿ثر ذریعہ ہیں۔اس مہم کے تحت نہ صرف مساجد بلکہ اسکولوں، کالجوں اور دیگر اداروں میں بھی بیداری پروگرام، آگاہی مہمات اور بحالی مراکز کے ذریعے مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم جمعہ کے خطبات کے ذریعے ایک ہی دن میں پورے کشمیر میں دیا جانے والا مشترکہ پیغام اس جدوجہد کا ایک اہم اور مو ¿ثر مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر مذہبی، سماجی اور سرکاری ادارے اسی طرح مل کر کام کرتے رہے تو منشیات کے خلاف اس جنگ میں نمایاں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، اور کشمیر کی نوجوان نسل کو اس تباہی سے بچایا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں