0

سرینگر میں 4.95 کروڑ کی فٹ برج پر چوری اور توڑ پھوڑ مہجور نگر پل سے دھاتی اشیاءغائب، حفاظتی خدشات میں اضافہ

نگرانی کے فقدان پر سوالات، عوام نے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا

سرینگر//17اپریل// سرینگر کے مہجور نگر علاقے میں حال ہی میں تعمیر کی گئی ایک پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص فٹ برج چوری، توڑ پھوڑ اور حفاظتی خدشات کے باعث تنازعہ کا شکار ہو گئی ہے۔ تقریباً 4.95 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ اس پل پر نصب دھاتی اجزاءکے غائب ہونے اور برقی نظام میں چھیڑ چھاڑ کے واقعات نے عوامی تشویش کو بڑھا دیا ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ فٹ برج لیکس اینڈ ریورز واٹر ویز ڈیولپمنٹ کی جانب سے سرینگر میونسپل کارپوریشن کے تحت تعمیر کیا گیا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں اس کے ریلنگ پر لگائے گئے خوبصورت دھاتی گولے (سفیئرز) پراسرار طور پر غائب ہو گئے ہیں۔ موقع پر موجود شواہد کے مطابق کئی ریلنگ کھلے ہوئے ہیں جہاں سے یہ گولے نکالے گئے ہیں۔مقامی افراد کے مطابق کم از کم 32 دھاتی گولے رات کے اندھیرے میں چرا لیے گئے، جس سے یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کوئی منظم چوری کی واردات ہو سکتی ہے نہ کہ معمولی نقصان۔واقعے نے اس وقت مزید تشویش پیدا کر دی جب پل کے قریب نصب برقی یونٹ، جو روشنی کے لیے استعمال ہوتا ہے، غیر محفوظ حالت میں پایا گیا۔ اس کے علاوہ قریب ہی ایک بجلی کے کھمبے پر بھی چھیڑ چھاڑ کے آثار ملے ہیں، جہاں نٹ اور بولٹ ڈھیلے اور جزوی طور پر نکالے گئے ہیں، جو نہ صرف ڈھانچے کے استحکام بلکہ عوامی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔مقامی رہائشیوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی توڑ پھوڑ نہ صرف عوامی املاک کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ شہر کی خوبصورتی کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ بعض افراد نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس میں منشیات کے عادی افراد ملوث ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔رہائشیوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اتنی بڑی لاگت سے بننے والے منصوبے پر سی سی ٹی وی کیمرے یا دیگر نگرانی کے موثر انتظامات کیوں نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت نگرانی ہوتی تو ایسے واقعات کو روکا جا سکتا تھا یا ملوث افراد کی نشاندہی ممکن ہوتی۔مقامی لوگوں نے اس حوالے سے پولیس اور متعلقہ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی اسکریپ ڈیلرز اور دھات خریدنے والوں سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر انہیں اس نوعیت کی اشیا فروخت کے لیے پیش کی جائیں تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔یہ واقعہ شہر میں نئی تعمیر شدہ عوامی املاک کی دیکھ بھال، نگرانی اور تحفظ کے حوالے سے بڑے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پل کے دیگر حصے، خصوصاً برقی نظام، بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔واضح رہے کہ مہجور نگر فٹ برج کا سنگ بنیاد 25 اگست 2022 کو رکھا گیا تھا اور اسے عوامی سہولت کے ایک اہم منصوبے کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، تاہم حالیہ واقعات نے اس کی افادیت اور حفاظت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں