سیب کے باغات کے پھیلاو سے چاول کی پیداوار میں کمی،صدفیصد بیرونی ریاستوں پر انحصارکا امکان
سرینگر//17اپریل// وادی کشمیر میں زرعی زمین، خصوصاً دھان کے کھیتوں کو باغبانی میں تیزی سے تبدیل کیے جانے کا رجحان سنگین تشویش کا باعث بن رہا ہے، جہاں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خطہ اپنی بنیادی غذائی ضرورت، خاص طور پر چاول کے لیے مکمل طور پر بیرونی ریاستوں پر منحصر ہو سکتا ہے۔محکمہ زراعت کے ایک ریٹائرڈ اعلیٰ افسر کے مطابق کشمیر پہلے ہی تقریباً 40 سے 50 فیصد غذائی قلت کا سامنا کر رہا ہے، اور گزشتہ پانچ سے چھ برسوں کے دوران دھان کی کاشت سے ہائی ڈینسٹی سیب کے باغات کی طرف تیزی سے منتقلی نے اس انحصار کو مزید بڑھا دیا ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہزاروں ہیکٹر زرخیز دھان کی زمین کو سیب کے باغات میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ اگرچہ اس تبدیلی سے کچھ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں مقامی سطح پر چاول کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر، جو کبھی چاول کی پیداوار میں خود کفیل سمجھا جاتا تھا، اب ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو آنے والے برسوں میں وادی مکمل طور پر دیگر ریاستوں سے چاول کی فراہمی پر انحصار کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔زرعی ماہرین کے مطابق باغبانی، خاص طور پر ہائی ڈینسٹی ایپل فارمنگ، کسانوں کے لیے زیادہ منافع بخش ثابت ہو رہی ہے، جس کے باعث وہ روایتی دھان کی کاشت چھوڑ کر باغات کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یہ قلیل مدتی مالی فائدہ طویل مدتی غذائی خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی وقت سپلائی چین میں رکاوٹ—چاہے وہ قدرتی آفات، ٹرانسپورٹ مسائل یا سیاسی حالات کی وجہ سے ہو—وادی میں غذائی بحران پیدا کر سکتی ہے۔تاریخی طور پر ضلع کولگام اور پلوامہ کو کشمیر کا “چاول کا گودام” سمجھا جاتا تھا، تاہم گزشتہ دو دہائیوں میں ان علاقوں میں دھان کی کاشت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ کولگام میں نصف سے زائد دھان کے کھیت باغبانی اور شہری توسیع کی نذر ہو چکے ہیں، جبکہ پلوامہ میں بعض علاقوں میں تقریباً 70 فیصد زمین باغات میں تبدیل ہو چکی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں دھان کی کاشت کا رقبہ 2012-13میں 1,62,309 ہیکٹر سے کم ہو کر 2021-22میں 1,34,067 ہیکٹر رہ گیا، جو کہ تقریباً 17 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں زمین کی تبدیلی کی رفتار کو دیکھتے ہوئے یہ کمی مزید بڑھ چکی ہے۔رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں تقریباً 35 ہزار ہیکٹر زرعی زمین کو غیر زرعی مقاصد، بشمول باغبانی اور تعمیرات، کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔فی الوقت کشمیر میں استعمال ہونے والے چاول کا تقریباً 60 سے 70 فیصد حصہ پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش جیسی ریاستوں سے حاصل کیا جا رہا ہے، جو فوڈ کارپوریشن آف انڈیا اور نجی تاجروں کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس حد تک بیرونی انحصار خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بروقت پالیسی اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایک متوازن پالیسی اپنائے جو ایک طرف کسانوں کی آمدنی کو یقینی بنائے اور دوسری طرف غذائی تحفظ کو بھی برقرار رکھے۔ انہوں نے دھان کی زمین کے تحفظ کے لیے سخت قوانین اور مو ¿ثر عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کشمیر ایک ایسے مقام پر پہنچ سکتا ہے جہاں واپسی ممکن نہ ہوگی۔
