جموں : جموں و کشمیر کی حکومت نے قانون ساز اسمبلی میں انکشاف کیا ہے کہ یونین ٹیریٹری کو رنجیت ساگر ڈیم (تھین ڈیم) اور شاہپور کنڈی بیراج سے پیدا ہونے والی بجلی میں 20 فیصد حصہ حاصل کرنے کا قانونی حق ہے، تاہم ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کی کمی کے باعث اس کا مکمل فائدہ حاصل نہیں ہو پا رہا۔ یہ اہم انکشاف اسٹارڈ سوال نمبر 842 کے تحت رکن اسمبلی درشن کمار کے سوال کے جواب میں کیا گیا، جس میں پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے تفصیلی وضاحت پیش کی گئی۔
حکومت کے مطابق 1979 میں کئے ایک معاہدہ کے تحت پنجاب حکومت پر لازم ہے کہ وہ ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی کا 20 فیصد حصہ جموں و کشمیر کو بس بار لاگت پر فراہم کرے۔ بعد ازاں 2019 میں پنجاب اسٹیٹ پاور کارپوریشن لمٹیڈ اور جموں و کشمیر پاور کارپوریشن لمٹیڈ کے درمیان بجلی کی خرید و فروخت کا معاہدہ بھی طے پایا، لیکن اس کے باوجود عملی سطح پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اسمبلی میں واضح کیا کہ “فی الحال ٹرانسمیشن نظام نہ ہونے کی وجہ سے اس منصوبے سے ایک یونٹ بجلی بھی ہمارے سسٹم میں شامل نہیں ہو رہی۔” حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ 47 سال گزرنے کے باوجود معاہدے پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
بی جے پی رہنما اور سابق وزیر شام لال شرما نے کہا کہ معاہدہ اس وقت کے وزرائے اعلیٰ شیخ عبداللہ اور پرکاش سنگھ بادل کے درمیان ہوا تھا۔ پنجاب حکومت کو اپنے وعدے پورے کرنے چاہئیں اور متاثرین کی باز آبادکاری بھی معاہدے کا حصہ ہے۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے کو پنجاب حکومت کے ساتھ اٹھائیں گے تاکہ معاہدے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت نے تسلیم کیا کہ اصل مسئلہ بجلی کی پیداوار نہیں بلکہ اس کی ترسیل ہے۔ مناسب ٹرانسمیشن لائنز نہ ہونے کے باعث جموں و کشمیر اپنے حصے کی بجلی حاصل نہیں کر پا رہا، جس سے خطے کو توانائی بحران کا سامنا برقرار ہے۔
ڈیم کی تعمیر سے متاثرہ افراد کے معاوضے کے حوالے سے حکومت نے بتایا کہ زیادہ تر معاوضہ ادا کیا جا چکا ہے۔ کچھ ادائیگیاں دستاویزات کی عدم فراہمی کے باعث رکی ہوئی ہیں اور متعلقہ حکام نے متاثرین کو بارہا نوٹس جاری کیے ہیں۔
وہیں مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے معاملے پر بھی سوال اٹھائے گئے۔ حکومت نے کہا کہ کچھ نوجوانوں کو ملازمت دی گئی ہے، مگر زیادہ تر نچلے درجے کی نوکریاں ہیں۔ مکمل روزگار کی فراہمی دونوں حکومتوں کی مشترکہ باز آبادکاری پالیسی کے تحت کی جائے گی
