ماہرین کا باقاعدہ جانچ، سخت کارروائی اور عوامی بیداری پر زور
غیر معیاری دودھ مصنوعات کے خلاف مہم میں کئی برانڈس اور کھیپیں ضبط
سرینگر//18مئی/ جموں و کشمیر میں مصنوعی اور ملاوٹ شدہ پنیر کی فروخت پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے جبکہ ماہرین اور صارفین کے حقوق کیلئے کام کرنے والے حلقوں نے دودھ اور دودھ سے بنی اشیاءکی باقاعدہ جانچ، سخت نگرانی اور عوامی بیداری مہمات کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بازار میں ایسے پنیر اور دودھ مصنوعات کی موجودگی عام صارفین کی صحت کیلئے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔یو این ایس کے مطابق رپورٹس کے مطابق متعدد فوڈ کاروباری ادارے سبزیاتی چکنائی اور تیل سے تیار کردہ ”اینالاگ چیز“ کو قدرتی پنیر کے طور فروخت کر رہے ہیں۔ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے اس سلسلے میں واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے ایسی مصنوعات کی غلط لیبلنگ اور فروخت کو قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ برس جموں و کشمیر میں دودھ مصنوعات کی جانچ کے دوران بڑے پیمانے پر ملاوٹ سامنے آئی تھی جس کے بعد انتظامیہ نے سبزیاتی چکنائی پر مشتمل ڈھیلے پنیر کی فروخت پر پابندی عائد کی تھی۔ اس کارروائی کے دوران مصنوعی پنیر کی کئی کھیپیں بھی ضبط کی گئی تھیں۔سرکاری لیبارٹریوں اور قومی سطح کے ٹیسٹنگ اداروں کی رپورٹوں میں متعدد نمونوں میں ”بیٹا سٹوسٹرول“ کی موجودگی پائی گئی تھی جو سبزیاتی تیل کی ملاوٹ کا واضح ثبوت تصور کیا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق کئی دودھ مصنوعات غیر معیاری اور غیر صحت بخش حالات میں بغیر مناسب کولڈ چین کے منتقل کی جا رہی تھیں، جس سے ان کی حفاظت پر سوالات اٹھے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دودھ اور پنیر جیسی روزمرہ استعمال کی اشیاء میں ملاوٹ نہ صرف عوامی صحت بلکہ غذائی معیار کیلئے بھی بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیر اور جموں دونوں خطوں میں مستقل بنیادوں پر خصوصی ٹیسٹنگ مہمات چلائی جائیں تاکہ ملاوٹ میں ملوث عناصر کے خلاف بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔یو این ایس کے مطابق فوڈ سیفٹی ماہرین نے بین الریاستی سطح پر نگرانی مزید سخت کرنے، مارکیٹ میں فروخت ہونے والی مصنوعات کی شفاف جانچ اور صارفین میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے تاکہ لوگ اصلی اور مصنوعی مصنوعات میں فرق کو سمجھ سکیں۔
