0

جموں و کشمیرحکومت کا ملازمین و پنشنروںکیلئے بڑا مالی ریلیف

مہنگائی بھتہ میں اضافہ،7ویں پے کمیشن 60 فیصد، 6ویں پے کمیشن 262 فیصد

سرینگر//18مئی/ جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے مہنگائی الاو ¿نس میں اضافہ کرتے ہوئے ایک اہم مالی ریلیف کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت 7ویں پے کمیشن کے ملازمین و پنشنروںکا ڈی اے 58 فیصد سے بڑھا کر 60 فیصد جبکہ 6ویں پے کمیشن کے تحت کام کرنے والے ملازمین کا ڈی اے 257 فیصد سے بڑھا کر 262 فیصد کر دیا گیا ہے۔یو این ایس کے مطابق مالیاتی محکمہ کی جانب سے اس حوالے سے دو علیحدہ احکامات جاری کیے گئے ہیں، جن کے مطابق یہ اضافہ یکم جنوری 2026 سے ریٹرو اسپیکٹو طور پر نافذ العمل ہوگا۔ حکام کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا اور سرکاری ملازمین و ریٹائرڈ افراد کو بہتر مالی سہولت فراہم کرنا ہے۔حکومتی احکامات میں واضح کیا گیا ہے کہ 7ویں پے کمیشن کے تحت آنے والے ملازمین اور پنشنرز کو مہنگائی الاو ¿نس بنیادی تنخواہ اور بنیادی پنشن پر دیا جائے گا، جبکہ 6ویں پے کمیشن کے ملازمین کے لیے یہ اضافہ پرانے پے اسکیل اور گریڈ پے سسٹم کے مطابق لاگو ہوگا۔ اس اقدام سے مختلف زمروں میں آنے والے ہزاروں ملازمین براہ راست مستفید ہوں گے۔مزید کہا گیا ہے کہ جنوری سے اپریل 2026 تک کے بقایا جات متعلقہ قواعد کے مطابق ادا کیے جائیں گے۔ جنرل پراویڈنٹ فنڈ کے تحت آنے والے ملازمین کے بقایا جات ان کے جی پی ایف کھاتوں میں جمع کیے جائیں گے، جبکہ نیشنل پنشن سسٹم کے ملازمین اور تمام پنشنرز کو یہ رقم نقد ادا کی جائے گی۔حکومت کے مطابق بڑھا ہوا ڈی اے مئی 2026 کی تنخواہ اور پنشن کے ساتھ باقاعدہ طور پر شامل کر دیا جائے گا، جس سے ملازمین کی ماہانہ آمدن میں اضافہ ہوگا اور انہیں معاشی دباو ¿ سے کچھ حد تک ریلیف ملے گا۔مالیاتی محکمہ نے مزید وضاحت کی ہے کہ ’این پ]ی ایس‘ملازمین کے معاملے میں آجر کا حصہ بھی ڈی اے کے بقایا جات کے مطابق جمع کیا جائے گا۔ اسی طرح حساب کتاب کے دوران اگر کوئی جزوی رقم بنتی ہے تو اسے اگلے پورے روپے میں گول کر دیا جائے گا۔حکام کے مطابق یہ فیصلہ ایک وسیع تر مالی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا اور مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں