0

کشمیر میں جنگلی سوروں کی واپسی، فصل نقصان سے دو چار

شمالی و وسطی کشمیر کے کسان پریشان، کھیت اور باغات تباہ ہونے لگے
ماہرین نے بڑھتی آبادی کو ماحولیاتی اور زرعی خطرہ قرار دیا،تدارک پر دیا زور

سرینگر//18مئی/ کشمیر میں کئی دہائیوں بعد دوبارہ ظاہر ہونے والے جنگلی سور اب کسانوں کیلئے سنگین مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔ شمالی، وسطی اور جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں کسانوں نے شکایت کی ہے کہ یہ جانور رات کے وقت کھیتوں اور باغات میں گھس کر فصلوں، سبزیوں اور سیب کے باغات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا رہے ہیں، جس کے باعث زرعی سرگرمیاں متاثر ہونے لگی ہیں۔بارہمولہ کے پٹن علاقے کے ٹپر گاو ¿ں سے تعلق رکھنے والے کسان حمید لون نے بتایا کہ گزشتہ ماہ جب وہ اپنے کھیت پہنچے تو ایسا محسوس ہوا جیسے راتوں رات زمین پر ٹریکٹر چلا دیا گیا ہو۔ ان کے مطابق مٹر کے بیج مکمل طور پر اکھڑ چکے تھے جبکہ پورا کھیت کیچڑ اور گہرے نشانات سے بھرا ہوا تھا۔یو این ایس کے مطابق شمالی کشمیر کے پٹن، رفیع آباد اور ا ±ڑی علاقوں کے علاوہ بانڈی پورہ کے حاجن، عاشم اور اندرکوٹ علاقوں سے بھی کسانوں نے فصلوں کو نقصان پہنچنے کی شکایات درج کرائی ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ جنگلی سور تازہ بوئی گئی دھان کی نرسریوں، آلو اور سبزیوں کے کھیتوں کو چند گھنٹوں میں تباہ کر دیتے ہیں۔بڈگام کے چاڈورہ علاقے کے ریپورہ، نمٹھل، چکپورہ اور بخرو دیہات میں بھی اس سیزن کے دوران نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بخرو کے ایک کسان غلام محی الدین پال نے کہا کہ یہ جانور اب نوجوان سیب کے درختوں کی جڑیں اور چھال بھی نقصان پہنچا رہے ہیں، جس سے کئی درخت سوکھ جاتے ہیں۔جنوبی کشمیر کے پانپور اور ترال علاقوں سے بھی فصلوں کی تباہی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ وائلڈ لائف حکام کے مطابق معاملہ اب صرف کھیتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ حال ہی میں ایک جنگلی سور ترال قصبے میں داخل ہو گیا تھا جس کے حملے میں چار افراد زخمی ہوئے۔ حکام نے اسے وادی میں انسان اور جنگلی سور کے درمیان حالیہ برسوں کا پہلا بڑا تصادم قرار دیا ہے۔وائلڈ لائف ماہرین کے مطابق جنگلی سوروں کو ڈوگرہ دور حکومت میں غالباً مہاراجہ گلاب سنگھ کے زمانے میں شکار کے مقصد کیلئے کشمیر لایا گیا تھا۔ برطانوی منتظم والٹر لارنس نے بھی اپنی 1895 کی کتاب’دی ویلی آف کشمیر‘ میں شمالی کشمیر میں ان جانوروں کا ذکر کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ 1980 کی دہائی کے بعد جنگلی سوروں کی موجودگی تقریباً ناپید سمجھی جا رہی تھی، تاہم گزشتہ ایک دہائی کے دوران ان کی دوبارہ موجودگی سامنے آئی۔ 2010 کے آس پاس بارہمولہ کے لمبر جنگلات میں ایک مردہ جنگلی سور کی موجودگی رپورٹ ہوئی تھی جبکہ 2013 میں سکاسٹ کشمیر کے محققین نے شمالی کشمیر میں ان کی تصاویر بھی حاصل کیں۔وائلڈ لائف حکام کا ماننا ہے کہ ان جانوروں کی بڑھتی تعداد کے پیچھے نسبتاً گرم موسم، کھیتوں اور باغات میں خوراک کی فراوانی اور جنگلاتی راہداریوں کے ذریعے ایل او سی کے آر پار نقل و حرکت اہم عوامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مادہ جنگلی سور ایک وقت میں چھ سے بارہ بچوں کو جنم دے سکتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی آبادی تیزی سے بڑھتی ہے۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ جنگلی سوروں کی بڑھتی موجودگی داچھی گام جیسے حساس جنگلاتی علاقوں کیلئے بھی خطرہ بن سکتی ہے کیونکہ یہ نایاب ہنگل ہرن کے بچوں کیلئے خطرہ تصور کئے جاتے ہیں اور خوراک کیلئے مقابلہ بھی کرتے ہیں۔اگرچہ محکمہ وائلڈ لائف نے کسانوں کو اجتماعی نگرانی، الٹراسونک آلات اور روایتی طریقے استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے، تاہم کسانوں کا کہنا ہے کہ ان تدابیر سے خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو رہا۔ ان کے مطابق اگر یہی صورتحال جاری رہی تو وادی میں کھیتی باڑی مزید مشکل ہو جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں