دن کا درجہ حرارت 30ڈگری سیلشس ریکارڈ ، جموں میں بھی پارہ 42ڈگری عبور کر گیا
مستقبل قریب میں گرمی سے نجات ملنے کا کوئی امکان نہیں ، 19مئی کے بعد ہی بارشوں کی پیشگوئی
سرینگر /17مئی // امسال وادی کشمیر میں مسلسل خراب موسمی صورتحال کے بیچ گزشتہ کچھ دنوں سے گرمی کی لہر میںکافی اضافہ ہو گیا جس کے نتیجے میں لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے ۔اتوار وار کو ایک مرتبہ پھر لوگوں کو شدید گرمی سے کوئی راحت نہیںملی اور ان کا درجہ حرارت 30ڈگری عبور کر گیا ۔اس دوران محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں مستقبل قریب میں بارشوں ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے تاہم 19مئی سے موسمی صورتحال میں تبدیلی کا امکان ہے اور بارشیںہو سکتی ہے جس سے لوگوں کو گرمی کی شدید لہر سے راحت ملے گی۔سی این آئی کے مطابق جہاں ماہ مئی میں درجہ حرارت میں اضافہ کے نتیجے میں گرمی کی شدت بڑھ گئی ۔اتوار کو دن بھر شدید گرمی کی لہر جاری رہی جس دوران درجہ حرارت 30ڈگری سیلشس ریکارڈ کیا گیا ۔محکمہ موسمیات کے مطابق جموں میں بھی گرمی کی شدید لہر جاری ہے اور 42ڈگری سیلشس ریکار ڈ کیا گیا ۔ محکمہ کے مطابق وادی کشمیر میں آئندہ چند دونوں میں موسم میں تبدیلی آنے کے امکانات نہیں ہے اور مجموعی طور پر موسم خشک ہی رہیگا ۔تاہم انہوں نے اس بات کے امکانات ظاہر کئے ہیں کہ گرمی کی شدت میں کمی آسکتی ہے ۔کیونکہ 19مئی سے بارشیں ہوسکتی ہے ۔ ادھر دن گرم ہونے کے ساتھ ہی مجموعی طور پر خشک موسم کی پیشینگوئی کے بیچ جموں و کشمیر کے بیشتر مقامات پر رات کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوا محکمہ موسمیات نے بتایا کہ اگلے 24 گھنٹوں میں بنیادی طور پر خشک موسم کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18مئی تک کسی ”بڑی تبدیلی“کی توقع نہیں تھی حالانکہ شام کی بارش کے امکان کو، اگرچہ کم ہے لیکن مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔درجہ حرارت کے بارے میںمحکمہ موسمیات نے بتایا کہ سرینگر میں گزشتہ رات 13.2 ڈگری کے مقابلے میں 14.2 ڈگری کا کم ریکارڈ کیا گیا ۔ اسی طرح سے قاضی گنڈ میں گزشتہ رات 10.6 ڈگری کے مقابلے میں کم از کم 11.6 ڈگری سیلشس ، کوکرناگ میں کم از کم درجہ حرارت 11.4 ڈگری سینٹی گریڈ کے مقابلے 10.8 ڈگری سینٹی گریڈ اور کپوارہ قصبہ میں گزشتہ رات 10.5 ڈگری کے مقابلے میں کم از کم 10.7ڈگری سیلشس ریکارڈ کیا گیا ۔
0
