نئی دہلی نے ثالثی فیصلہ مسترد کرتے ہوئے عدالت کو ’غیر قانونی‘ قرار دے دیا
سندھ طاس معاہدہ بدستور معطل، کسی فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے//بھارت کا اعلان
سرینگر//17مئی/ بھارت نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے سے متعلق جاری تنازع پر عالمی ثالثی عدالت کی جانب سے جاری تازہ فیصلے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ اس عدالت کے وجود، دائر اختیار اور فیصلوں کو قانونی حیثیت نہیں دیتا۔ نئی دہلی نے کہا ہے کہ نام نہاد کورٹ آف آربٹریشن غیر قانونی طور پر قائم کی گئی ہے اور اس کی تمام کارروائیاں اور فیصلے بھارت کیلئے ”کالعدم“ اور ”ناقابل قبول“ ہیں۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ 15 مئی 2026 کو اس نام نہاد ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت ”زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے“ سے متعلق ایک ضمنی فیصلہ جاری کیا، لیکن بھارت اس فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔یو این ایس کے مطابق ترجمان نے اپنے بیان میں کہا، ”غیر قانونی طور پر قائم کی گئی نام نہاد کورٹ آف آربٹریشن نے جو بھی فیصلہ جاری کیا ہے، بھارت اسے قطعی طور پر قبول نہیں کرتا۔ ہم پہلے بھی اس کے تمام فیصلوں کو مسترد کرتے رہے ہیں اور موجودہ فیصلہ بھی ہمارے لئے بے معنی ہے۔“انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت نے کبھی اس عدالت کے قیام کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی اس کے کسی عمل میں شرکت کی۔ ان کے مطابق اس عدالت کی کارروائیاں سندھ طاس معاہدے میں طے شدہ تنازعات کے حل کے طریقہ کار کے خلاف ہیں، اس لئے بھارت انہیں قانونی حیثیت نہیں دیتا۔بھارتی وزارت خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا بھارت کا فیصلہ بدستور نافذ العمل ہے۔ مبصرین کے مطابق نئی دہلی کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت پانی کے معاملے پر اپنی سخت پالیسی میں کسی قسم کی نرمی دکھانے کیلئے تیار نہیں۔واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ چھ دریاو ¿ں سندھ، جہلم، چناب، راوی، بیاس اور ستلج کے پانی کی تقسیم کا طریقہ کار وضع کیا گیا تھا۔ یہ معاہدہ جنوبی ایشیا کے اہم ترین آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے اور کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کی بنیاد رہا ہے۔تاہم گزشتہ برسوں کے دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان آبی منصوبوں، ڈیموں اور دریاو ¿ں پر تعمیراتی سرگرمیوں کو لے کر اختلافات شدت اختیار کرتے گئے۔ پاکستان نے بعض بھارتی منصوبوں پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے عالمی ثالثی فورم سے رجوع کیا تھا، جبکہ بھارت مسلسل یہ مو ¿قف اپناتا رہا کہ تنازعات کے حل کیلئے معاہدے میں پہلے سے موجود دوطرفہ اور تکنیکی طریقہ کار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت نے اس تنازع کی سماعت کیلئے کورٹ آف آربٹریشن تشکیل دی تھی، لیکن بھارت نے ابتدا ہی سے اس عمل کا بائیکاٹ کیا اور عدالت کے اختیار کو چیلنج کیا۔ نئی دہلی کا مو ¿قف ہے کہ ثالثی عدالت کی تشکیل معاہدے کی شقوں اور تنازعات کے حل کے اصل فریم ورک کے خلاف ہے۔بھارتی حکام کے مطابق کسی بھی ایسے فیصلے کی بھارت پر کوئی قانونی پابندی عائد نہیں ہوتی جو ایک ”غیر تسلیم شدہ“ عدالت کی جانب سے جاری کیا گیا ہو۔سیاسی اور سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا تازہ ردعمل نہ صرف سندھ طاس تنازع میں اس کے سخت مو ¿قف کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ جنوبی ایشیا میں پانی، سلامتی اور سفارت کاری کے بڑھتے ہوئے پیچیدہ تعلقات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان آبی تنازعات کو مزید حساس بنا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سیاسی تعلقات پہلے ہی شدید تناو کا شکار ہیں۔
