نئی دہلی 15 مئی: مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے منفی اثرات اب ہندوستان پر نظر آنے لگے ہیں۔ تیل کمنیوں نے آج صبح عوام کو مہنگائی کا زبردست جھٹکا دیا ہے۔ ملک میں اب پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہو گیا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر تین روپے سے زیادہ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آج (15 مئی) سے ہو گیا ہے۔
پٹرول کی قیمتوں میں 3.14 روپے اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3.11 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
نئی قیمتوں کے اطلاق کے ساتھ ہی قومی دارالحکومت دہلی میں پٹرول کی قیمت 94.77 روپے سے بڑھ کر 97.77 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، جب کہ ڈیزل کی قیمت 87.67 روپے سے بڑھ کر 90.67 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
یہ اضافہ مغربی ایشیا کے تنازع کے آغاز کے بعد سے توانائی کی عالمی شرحوں میں اضافے کے لیے درکار مطلوبہ اضافے کا 10 واں حصہ ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سرکاری تیل کی فرموں نے ان پٹ لاگت میں اضافے کے باوجود 11 ہفتوں تک ایندھن کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی تھی، لیکن جب آپریشنز مالی طور پر غیر مستحکم ہو گئے تو اس میں اضافہ ناگزیر ہوگیا۔
اپریل 2022 سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا تھا قیمتیں منجمد تھیں تاہم لوک سبھا انتخابات سے ٹھیک پہلے مارچ 2024 میں پٹرول اور ڈیزل پر دو روپے فی لیٹر کی یک طرفہ کمی کی گئی تھی۔
سرکاری ملکیت والی انڈین آئل کارپوریشن (آئی او سی)، بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل) اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (ایچ پی سی ایل) نے اپریل 2022 میں یومیہ قیمتوں پر نظرثانی کو ترک کر دیا تھا تاکہ گھریلو صارفین کو قیمتوں میں زبردست اضافے سے بچایا جا سکے جو کہ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ضروری تھا۔
انہیں مالی سال 2022-23 کی پہلی ششماہی میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جس کی بھرپائی انہوں نے اس وقت کی جب بعد کے مہینوں میں شرحیں کم ہوئیں۔
لیکن مغربی ایشیا میں جنگ نے ایک بار پھر تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔
مغربی ایشیا میں جنگ شروع ہونے سے پہلے فروری میں خام تیل کے بیرل ہندوستان درآمد کرتا ہے وہ اوسطاً فی بیرل 69 امریکی ڈالر تھا۔ اس کے بعد کے مہینوں میں اوسطاً 113-114 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔
واضح رہے مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے بیچ مذاکرات کا تعطل کا شکار ہیں جس کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل محدود ہوگئی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی کر دی ہے تو وہیں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی ہے۔ جنگ سے قبل اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے دنیا کو 15 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی تھی۔
(پی ٹی آئی ,ETV BHARAT مشمولات کے ساتھ)
