مئی 14, 2026ممبئی: سابق آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ) منوج نروانے نے آر ایس ایس لیڈر دتاتریہ ہوسابلے کے پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ بات چیت اور عوام سے عوام کے روابط کو فروغ دینے کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت “اہم” ہیں۔
سابق آرمی چیف نے کہا کہ “عام آدمی” کی بنیادی جدوجہد، خاص طور پر “روٹی، کپڑا اور مکان” (کھانا، لباس اور رہائش) کی بنیادی ضرورتیں سرحد کے دونوں طرف یکساں ہیں۔
نروانے نے بدھ کو ممبئی میں منعقدہ ایک تقریب کے موقع پر پی ٹی آئی کو بتایا کہ، ” عام آدمی کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ جب دو لوگوں کے درمیان دوستی ہوگی تو دو ممالک کے درمیان بھی دوستی ہوگی۔”
سابق آرمی چیف آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابلے کے پی ٹی آئی ویڈیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان سے بات چیت سے متعلق خیالات سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دے رہے تھے۔
نروانے نے کہا کہ، “یہ صحیح بات ہے۔ لوگوں سے عوام کا رابطہ اہم ہے۔” انھوں نے مزید کہا کہ، اس طرح کا رابطہ علاقائی استحکام کو یقینی بنانے میں ایک اہم عنصر رہتا ہے۔
سابق آرمی چیف نے اپنی نئی کتاب ‘کیوریئس اینڈ دی کلاسیفائیڈ: انارتھنگ ملٹری میتھز اینڈ میسٹریز’ پر دستخط کرنے کے لیے شہر میں کتابوں کی دکان کا دورہ کیا۔
ہوسابلے نے منگل کو پی ٹی آئی ویڈیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعطل کو توڑنے کے لیے عوام سے عوام کا رابطہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اور بات چیت کے لیے ہمیشہ ایک کھڑکی کھلی ہونی چاہیے۔
آر ایس ایس رہنما نے کہا تھا کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے ہندوستان کا اعتماد کھو دیا ہے، اور اب وقت آگیا ہے کہ سول سوسائٹی رہنمائی کرے۔
نروانے نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عوام سے عوام کا رابطہ ہونا چاہیے، چاہے وہ “ٹریک ٹو” ڈپلومیسی کے ذریعے ہو یا کھیلوں کا کوئی ایونٹ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگوں کو بھی یہ جان لینا چاہئے کہ سرحد کے اُس پار رہنے والے جانی دشمن نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم فوجی طاقت کا استعمال نہیں کر سکتے۔ بھارت ایک ایسا ملک ہے جو امن کی زبان بولتا ہے لیکن ضرورت پڑنے پر ہم طاقت کے استعمال سے نہیں ہچکچائیں گے۔
