0

ٹرمپ کا چین دورہ: جن پنگ نے بڑھایا دوستی کا ہاتھ، کہا ہمیں شراکت دار ہونا چاہیے، حریف نہیں

بیجنگ 14 مئی عقاب نیوز ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر ہیں۔ جمعرات کو گریٹ ہال آف دی پیپل میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ دی گریٹ ہال آف دی پیپلز ایک شاندار سرکاری عمارت اور قومی اجتماع گاہ ہے جو دارالحکومت بیجنگ میں واقع ہے۔ ژی جن پنگ نے بدھ کی رات تین روزہ دورے پر بیجنگ پہنچنے پر ٹرمپ کا استقبال کیا۔

دورے کے دوران دونوں رہنما ایران جنگ اور تجارتی اختلافات سمیت متعدد امور پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب مغربی ایشیا میں جاری تنازعات اور اس کے نتیجے میں توانائی کے عالمی بحران نے اقتصادی، جغرافیائی و سیاسی صورت حال غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے خاص طور پر ایشیا اقتصادی اور توانائی کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ بھارت بھی اس ملاقات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت سے دنیا بھر میں کشیدگی کو کم کیا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ “میں آپ (شی جن پنگ) کا بہت شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلے، یہ ایک ایسا اعزاز تھا جو اس سے پہلے بہت کم لوگوں نے دیکھا ہے۔ میں خاص طور پر سے استقبالیہ میں موجود بچوں سے خاص طور پر متاثر ہوا۔ وہ خوش تھے، وہ بہت پیارے تھے۔ رہی فوج کی بات تو ظاہر ہے، اس سے بہتر کچھ نہیں ہو سکتا۔ لیکن وہ بچے بہت زیادہ حیرت انگیز تھے۔”

ٹرمپ نے شی جن پنگ کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مسلسل براہ راست بات چیت کے ذریعے مختلف مقامات پر کشیدگی کو سنبھالا ہے۔ “میں اور آپ ایک دوسرے کو کافی عرصے سے جانتے ہیں۔ درحقیقت یہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی دو سربراہان کے درمیان سب سے طویل رشتہ ہے۔ ہمارے درمیان شاندار تعلقات ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ اچھے طریقے سے چلتے ہیں۔ جب بھی کوئی مشکل آئی ہم نے اسے حل کیا ہے۔” میں آپ کو فون کرتا، اور آپ مجھے کال کرتے، اور جب بھی ہمیں کوئی مسئلہ ہوتا، لوگوں کو پتہ نہیں چلتا۔ جب بھی ہمیں کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو ہم بہت جلد اس کا حل نکال لیتے ہیں۔

ژی کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، “آپ کے لیے احترام، چین، آپ کے کام کے لیے۔ آپ ایک عظیم لیڈر ہیں۔ میں سب کو یہ کہتا ہوں۔” امریکی صدر نے اپنے وفد میں امریکہ کے ممتاز کاروباری عہدیداروں کی موجودگی کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ چین کے ساتھ تجارتی اور کاروباری تعلقات کو وسعت دینے کے خواہشمند ہیں۔
ہمیں شراکت دار ہونا چاہیے، حریف نہیں: چینی صدر

چین کے صدر شی جن پنگ نے جمعرات کو بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی دو طرفہ ملاقات کے دوران چین اور امریکہ کے بیچ “تصادم” کے بجائے “تعاون” پر زور دیا۔ دونوں سربراہان کی یہ ملاقات ٹرمپ کے دو روزہ درۂ چین کا حصہ تھی۔ شی نے کہا کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کو “شراکت دار ہونا چاہیے، حریف نہیں۔”

اعلیٰ سطح کی میٹنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے شی نے کہا کہ دنیا “ایک صدی میں بے مثال تبدیلیوں” سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے ایسے حالات میں عالمی غیر یقینی صورت حال کے درمیان مستحکم چین امریکہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔ چینی صدر نے کہا کہ “پوری دنیا ہماری ملاقات کو دیکھ رہی ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں ایک صدی میں بے مثال تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں، اور بین الاقوامی صورت حال غیر مستحکم اور ہنگامہ خیز ہے۔ دنیا ایک نئے موڑ پر پہنچ چکی ہے۔”

دو عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات کے مستقبل کے بارے میں وسیع تر سوالات اٹھاتے ہوئے شی نے سوال کیا کہ کیا امریکہ اور چین “تھوسیڈائڈز ٹریپ” پر قابو پا سکتے ہیں اور تعلقات کے “نئے معیار” قائم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “کیا چین اور امریکہ تھوسیڈائڈز ٹریپ (Thucydides Trap) پر قابو پا سکتے ہیں اور بڑے ممالک کے درمیان تعلقات کا ایک نیا نمونہ قائم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم مل کر عالمی چیلنجز کا سامنا کر سکتے ہیں؟” کیا اس سے دنیا میں زیادہ استحکام آئے گا؟

تھوسیڈائڈز ٹریپ: یہ ایک ایسا سیاسی نظریہ ہے جو کہتا ہے کہ جب کوئی تیزی سے ابھرتی ہوئی طاقت سے کسی مستحکم طاقت کو بے دخل ہونے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے تو نتیجہ اکثر جنگ کی طرف جاتا ہے۔ یہ اصطلاح، جو سال 2012 میں ہارورڈ کے ماہر سیاسیات گراہم ایلیسن نے وضع کی تھی، عام طور پر امریکہ اور چین کے درمیان کشیدہ تعلقات کا تجزیہ کرنے کے لیے اس اصطلاح کا استعمال کیا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں