تہران، 13 مئی (یواین آئی) ایران کے دارالحکومت تہران کے مشرقی علاقے میں ایک ہی رات کے دوران وقفے وقفے سے نو چھوٹے زلزلوں کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے بعد ماہرین اور شہریوں میں کسی بڑے تباہ کن زلزلے کے خدشات دوبارہ شدت اختیار کر گئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی مہر نیوز کے مطابق یہ جھٹکے تہران کے مشرق میں واقع پردیس کے علاقے میں محسوس کیے گئے، جبکہ ان کی وجہ سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
رپورٹس کے مطابق بار بار آنے والے یہ جھٹکے اس خدشے کو مزید بڑھا رہے ہیں کہ تہران، جو کئی فعال فالٹ لائنوں کے قریب واقع ہے، مستقبل میں کسی بڑے زلزلے کا شکار ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس خطے میں زلزلے کے جھٹکے معمول کا حصہ ہیں، تاہم ایک ہی رات میں مسلسل کئی جھٹکوں کا محسوس ہونا غیر معمولی صورتحال سمجھی جا رہی ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق مشرقی تہران میں ریکارڈ کیے گئے یہ زلزلے موشا فالٹ کے قریب محسوس ہوئے، جو ایران کے سب سے زیادہ فعال زلزلہ زدہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایک زلزلے کی شدت 4.6 ریکارڈ کی گئی، تاہم ان جھٹکوں کے نتیجے میں کسی جانی یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
مہر نیوز نے زلزلہ شناس مہدی زرے کے حوالے سے بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ جھٹکے زیرِ زمین جمع شدہ دباؤ کے اخراج کی علامت ہیں یا مستقبل میں کسی شدید زلزلے کا پیش خیمہ۔
انہوں نے خبردار کیا کہ تہران کے لیے خطرہ صرف فعال فالٹ لائنوں کی وجہ سے نہیں بلکہ گنجان آبادی، تیزی سے پھیلتی شہری تعمیرات اور محدود ہنگامی تیاریوں کے باعث بھی بڑھ جاتا ہے۔
مہدی زرے کے مطابق نسبتاً کم شدت کے زلزلے بھی حساس انفراسٹرکچر اور آبادی کے دباؤ کی وجہ سے دارالحکومت میں شدید خلل پیدا کر سکتے ہیں اور امدادی کارروائیوں کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ تہران 14 ملین سے زائد آبادی پر مشتمل ایک بڑا میٹروپولیٹن علاقہ ہے، جو شمالی تہران، موشا اور رے فالٹ سسٹمز سمیت کئی بڑے فعال فالٹس کے قریب واقع ہے۔
ایرانی ماہرین کئی برسوں سے خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ تہران کے قریب آنے والا کوئی بڑا زلزلہ انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
ایران دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ زدہ ممالک میں شمار ہوتا ہے، جبکہ 2003 میں آنے والے بام زلزلہ میں 30 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جسے ملک کی تاریخ کے بدترین قدرتی سانحات میں شمار کیا جاتا ہے۔
0
