غزہ، 13 مئی : غزہ پٹی میں جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے تقریباً 200 دن بعد ایک نئی اصطلاح “اورنج لائن” منظر عام پر آ گئی ہے، جسے اسرائیلی فوج کی تازہ پیش قدمی اور مزید علاقوں پر کنٹرول کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک مغربی سفارت کار نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں حماس کے زیرِ کنٹرول مزید علاقے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔ اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم کے مطابق سفارت کار نے بتایا کہ حالیہ زمینی پیش رفت کے بعد اب “اورنج لائن” نے سابقہ “یلو لائن” کی جگہ لینا شروع کر دی ہے۔
سفارت کار کے مطابق یہ تبدیلی نام نہاد امن کونسل کے علم میں لائی جا چکی ہے، جبکہ یہ اقدام حماس کی جانب سے اسلحہ چھوڑنے سے متعلق وعدے پورے نہ کرنے کے بعد کیا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں مزید اقدامات بھی متوقع ہیں۔
جنگ بندی معاہدے کے تحت “یلو لائن” ایک ایسی حد بندی تھی جو مشرق میں اسرائیلی فوج کے زیرِ کنٹرول علاقوں اور مغرب میں فلسطینی آبادی والے حصوں کو الگ کرتی تھی۔ یہ علاقہ غزہ پٹی کے تقریباً 53 فیصد رقبے پر مشتمل تھا۔
حماس کے رہنما باسم نعیم نے اپنے ایک سابقہ بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل نے یلو لائن کو مغرب کی جانب مزید 8 سے 9 فیصد تک بڑھا دیا ہے، جس کے بعد اسرائیلی کنٹرول غزہ کے 60 فیصد سے زیادہ علاقے تک پھیل چکا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے کہا ہے کہ اسرائیل نے “اورنج لائن” قائم کر کے غزہ میں اپنے قبضے کو مزید وسعت دی ہے۔ ان کے مطابق یہ نئی لائن اسی یلو لائن کے اندر قائم کی گئی ہے جہاں سے اسرائیلی فوج نے اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے تحت انخلا کیا تھا۔
ڈوجارک نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے پاس ایسے نقشے موجود ہیں جن میں نئی “اورنج لائن” واضح کی گئی ہے، اور یہ نقشے انسانی امدادی اداروں اور امدادی عملے کو بھی فراہم کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کو مطلع کیا گیا ہے کہ امدادی ٹیموں کے لیے اورنج لائن عبور کرنے سے قبل اسرائیلی حکام کے ساتھ پیشگی رابطہ اور اجازت ضروری ہوگی۔ ان کے مطابق یہ شرط اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ان علاقوں کو غیر محفوظ تصور کیا جا رہا ہے۔
“یلو لائن” دراصل غزہ کے اندر ایک فرضی حد بندی تھی جہاں تک اسرائیلی فوج جنگ بندی معاہدے کے تحت عارضی طور پر پیچھے ہٹی تھی تاکہ بعد میں مزید انخلا کیا جا سکے۔ اس لائن کی نشاندہی پیلے رنگ کے سیمنٹ بلاکس کے ذریعے کی گئی تھی، تاہم عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج آغاز ہی سے ان بلاکس کو مزید اندرونی علاقوں کی طرف منتقل کرتی رہی ہے۔
اسرائیلی پیش قدمی اور حد بندیوں میں تبدیلی کے باعث درجنوں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھر اور خیمے چھوڑ کر مغربی علاقوں کی جانب نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ خاص طور پر خان یونس، غزہ شہر کے جنوب مشرقی علاقے محلہ زیتون اور جبالیہ بلدہ میں صورتحال زیادہ سنگین بتائی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کی اس پیش قدمی کے دوران فضائی حملے، توپ خانے کی گولہ باری اور فائرنگ کے متعدد واقعات بھی پیش آئے، جن میں درجنوں فلسطینی جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج کا مؤقف تھا کہ متاثرہ افراد نے یلو لائن عبور کرنے یا اس کے قریب جانے کی کوشش کی تھی۔
0
