امریکی محکمہ جنگ پینٹاگون نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کی اخراجات قریباً 29 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ کو اس تنازعے اور فوجی تیاریوں پر پڑنے والے اس کے اثرات پر کانگرس کی جانب سے سخت جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔
وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین امریکی قانون سازوں کے سامنے 2027 کے لیے امریکی فوج کے 1.5 ٹریلین ڈالر کے مجوزہ بجٹ پر اظہارِ خیال کر رہے تھے، اور اس دوران ان سے اب تک جنگ پر آںے والے اخراجات کے بارے میں دریافت کیا گیا۔
پینٹاگون حکام کے مطابق دو ہفتے قبل کانگریس کو ایران جنگ پر 25 ارب ڈالر اخراجات کا تخمینہ بتایا گیا تھا جو اب بڑھ کر 29 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
اس سے قبل 29 اپریل کو محکمہ جنگ کے حکام نے قانون سازوں کو بریفنگ میں بتایا تھا کہ ’ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ پر اب تک قریباً 25 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔‘
امریکی محکمہ جنگ ’پینٹاگون‘ کے ایک عہدے دار نے حکومت کی جانب سے پہلی بار اس جنگ کے اخراجات کی تفصیل بتائی تھی۔
واضح رہے کہ اس جنگ میں اب تک امریکہ کے 13 فوجی ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔
محکمہ جنگ میں کمپٹرولر کے فرائض انجام دینے والے جولز ہرسٹ نے ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے قانون سازوں کو بتایا تھا کہ ’اس رقم کا زیادہ تر حصہ گولہ بارود اور جنگی آلات کے لیے مختص کیا گیا۔‘
تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اس رقم سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے دوران تباہ ہونے والے بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِنو اور مُرمت کے لیے بھی پیسے خرچ کیے جائیں گے۔
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے صرف چھ ماہ قبل صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ایوان میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سخت معرکہ درپیش ہے۔
امریکہ میں سامنے آنے والے رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کے مطابق ایران کی غیرمقبول جنگ کی وجہ سے اس وقت ڈیموکریٹس، ریپبلکنز سے آگے ہیں۔
جنگ کا آغاز ہونے کے بعد پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں اپنے ہزاروں فوجی بھیج چکا ہے، اس کے علاوہ امریکہ کے تین بحری بیڑے بھی خطے میں موجود ہیں۔
ایران جنگ شروع ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف 34 فیصد امریکی اس جنگ کی حمایت کرتے ہیں جبکہ اپریل کے وسط میں 36 فیصد افراد اس جنگ کے حامی تھے۔
