امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ چین کے دورے کے دوران صدر شی جن پنگ سے ایران کے ساتھ جاری جنگ پر طویل بات چیت کریں گے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے پر انھیں چینی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس سے بیجنگ روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میرا نہیں خیال کہ ایران کے معاملے پر ہمیں کسی مدد کی ضرورت ہے۔ ہم یہ جنگ ایک یا دوسرے طریقے سے جیت لیں گے، چاہے پرامن طریقے سے ہو یا کسی اور طرح۔‘
جنگ بندی خطرے میں، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی دارالحکومت تہران میں فوجی مشقیں
اس موقعے پر ایک صحافی نے سوال کہا کہ کیا آپ پاکستانیوں کو بطور ثالث دوبارہ شامل کرنے پر غور کر رہے ہیں؟
اس پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’نہیں، وہ بہترین ہیں۔ پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم بالکل زبردست رہے ہیں۔‘
واضح رہے کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے سربراہان کے درمیان چھ ماہ سے زائد عرصے کے بعد یہ پہلی بالمشافہ ملاقات ہو گ
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات تجارت، ایران کے ساتھ جاری امریکہ-اسرائیل جنگ اور دیگر کئی اختلافات کی وجہ سے تناؤ کا شکار ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے وقت میں چین پہنچ رہے ہیں جب ایران کے ساتھ جنگ تاحال غیر حل شدہ ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے سفارتی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
بیجنگ کے تہران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور وہ ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار بھی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل چین پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے تہران کو واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور کرے تاکہ اس تنازع کا خاتمہ ہو سکے جس کا آغاز فروری کے اواخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہوا تھا۔
وہ بدھ کو بیجنگ پہنچیں گے جہاں جمعرات اور جمعے کو مذاکرات طے پائے ہیں۔ سال 2017 کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا چین کا یہ پہلا دورہ ہے۔
بعد ازاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا ’ہمارے پاس بحث کے لیے بہت سی چیزیں موجود ہیں، لیکن سچ کہوں تو میں یہ نہیں کہوں گا کہ ایران ان میں شامل ہے کیونکہ ایران پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے۔
