نئی دہلی، 10 مئی : مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو یہاں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک میں ممکنہ سیلاب اور شدید گرمی (لو) سے نمٹنے کی تیاریوں کا جامع جائزہ لیا اور ہر ریاست میں سیلابی بحران سے نمٹنے والی ٹیمیں تشکیل دینے کی ہدایت دی۔
امت شاہ نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے تعاون سے جموں و کشمیر، لداخ، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، اروناچل پردیش اور سکم میں 30 خطرناک جھیلوں کے لیے قبل از وقت وارننگ سسٹم تیار کرنے کی منصوبہ بندی میں کم از کم 60 جھیلوں کو شامل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مرکز اور ریاستوں کی سطح پر سیلاب کی پیش گوئی کے لیے ایک مربوط نظام ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی ہر ریاست میں سیلابی بحران مینجمنٹ ٹیمیں تشکیل دے کر انہیں فعال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات سے متعلق این ڈی ایم اے کی جاری کردہ ہدایات کے ذریعے بہتر بیداری اور “مکمل حکومت” کا نظریہ فروغ پایا ہے، لیکن ریاست، ضلع اور میونسپل سطح پر ان ہدایات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے کو اس بات کا مطالعہ کرنا چاہیے کہ جنگلات میں لگنے والی آگ، لو اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وزارت داخلہ کی ہدایات اور این ڈی ایم اے کے رہنما اصولوں پر کتنی ریاستیں عمل کر رہی ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ سب کو مل کر “زیرو کیجولٹی” ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے تصور کو نافذ کرنے پر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آبی ذخیرہ اور چیک ڈیم منصوبوں کے ذریعے پانی کے تحفظ اور زیر زمین پانی کی سطح میں بہتری کے مزید امکانات تلاش کیے جائیں۔
انہوں نے کہاکہ “ہمارا مقصد ہونا چاہیے کہ شدید گرمی سے زرعی شعبے کو کم سے کم نقصان ہو، ساتھ ہی دریاؤں پر چیک ڈیم بنا کر پانی کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔”
امت شاہ نے کہا کہ ایک ایسا ماسٹر پلان تیار کیا جانا چاہیے جس کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی کے باعث موسم میں آنے والی تبدیلیوں اور ان سے پیدا ہونے والے قدرتی آفات کے چیلنجز سے “مکمل حکومت” اور “مکمل سماج” کے نقطہ نظر کے ساتھ نمٹا جا سکے۔
یواین آئی
0
