0

‘نشہ مُکت جموں و کشمیر ابھیان’ کے تحت جموں و کشمیر پولیس کا منشیات کے نیٹ ورک کے خلاف کریک ڈاؤن، سانبہ میں غیر قانونی ڈھانچے منہدم

جموں، 17 مئی : جموں و کشمیر پولیس نے اتوار کو سانبہ ضلع میں غیر قانونی ڈھانچوں کو منہدم کرتے ہوئے منشیات کے نیٹ ورک کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ ضلع پولیس اور سول انتظامیہ کی جانب سے مشترکہ طور پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف جاری انسدادِ منشیات کارروائی کے تحت سانبہ ضلع کے بڑی برہمنا علاقے میں واقع نشاندہی شدہ منشیات کے مرکز “بلول کھڈ” میں انہدامی مہم چلائی گئی۔
ترجمان کے مطابق منہدم کیے گئے غیر قانونی ڈھانچے منشیات فروشوں اور ہیروئن اسمگلنگ میں ملوث عادی مجرموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکے تھے۔
یہ کارروائی سانبہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انوج کمار کی قیادت میں سول انتظامیہ کے تعاون سے انجام دی گئی، جس کے دوران تقریباً 50 کنال زمین، جس کی مالیت تقریباً 60 کروڑ روپے بتائی گئی، منشیات فروشوں کے قبضے سے واگزار کرائی گئی۔
واگزار کی گئی زمین سِڈکو بڑی برہمنا انڈسٹریل ایریا کی ملکیت ہے، جسے واپس اس کے حوالے کر دیا گیا۔ مزید یہ کہ زمین کی باڑ بندی مکمل کر لی گئی ہے اور فلڈ لائٹس بھی نصب کر دی گئی ہیں۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ ڈھانچے منشیات، خصوصاً ہیروئن، کو ذخیرہ کرنے، چھپانے اور سپلائی کے لیے استعمال ہو رہے تھے، جس سے نوجوانوں کی زندگیاں تباہ ہو رہی تھیں اور امن و امان متاثر ہو رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ علاقہ مسلسل نگرانی میں رہا ہے اور یہاں سے سرگرم کئی بدنام منشیات فروشوں کا طویل مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے، جن پر 35 سے زائد ایف آئی آر درج ہیں۔
ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں محمد بارو (10 مقدمات، بشمول این ڈی پی ایس اور دیگر جرائم)، دہوا بی بی (3 مقدمات)، منشو (7 مقدمات)، فرمان علی عرف منّا (3 این ڈی پی ایس مقدمات)، فاروق دین عرف دانا (2 مقدمات)، فاروق علی عرف کانا (6 مجرمانہ مقدمات)، حیدر عرف راجو (2 مقدمات) اور فرمان دین (2 مقدمات) شامل ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ ان منشیات فروشوں کے علاوہ کئی دیگر سپلائرز اور جرائم پیشہ عناصر بھی اس علاقے سے سرگرم تھے
اور ان ڈھانچوں کو منشیات سے متعلق سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
یواین آئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں