بی جے پی کے نام مکمل طور پر شامل کرنے کا مو ¿قف سامنے آگیا
سرینگر//18مئی// و کشمیر اسمبلی میں فنانس کمیٹیوں کی تشکیل کے معاملے پر سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، تاہم اسمبلی اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے واضح کیا ہے کہ تین اہم فنانس کمیٹیوں کی تشکیل انتخابات کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں کی باہمی رضامندی اور اتفاق رائے سے عمل میں لائی گئی ہے، اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے دیے گئے تمام نام بھی شامل کر لیے گئے ہیں۔یو این ایس کے مطابق اسپیکر کے مطابق فنانس کمیٹیوں کے لیے باقاعدہ طور پر اسمبلی سیشن کے دوران نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، جس میں نامزدگیوں اور انتخابات کا شیڈول بھی شامل تھا۔ تاہم بعد ازاں اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان کمیٹیوں کی تشکیل انتخابات کے بجائے اتفاق رائے سے کی جائے، تاکہ ایوانی کارروائی کو زیادہ مو ¿ثر اور متوازن بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اس اتفاق رائے کے تحت بی جے پی کی جانب سے جو نام دیے گئے تھے، انہیں تینوں فنانس کمیٹیوں میں شامل کر لیا گیا۔ اسپیکر نے بتایا کہ پبلک اکاو ¿نٹس کمیٹی جو فنانس کمیٹیوں میں سب سے اہم سمجھی جاتی ہے، کی چیئرمین شپ بھی بی جے پی کو دی گئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تمام جماعتوں کو نمائندگی میں شامل رکھا گیا۔اس معاملے پر اس وقت سیاسی گرما گرمی اس وقت پیدا ہوئی جب اپوزیشن لیڈر سونیل شرما نے الزام عائد کیا کہ اسپیکر اسمبلی کو کسی سیاسی دفتر میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بیشتر کمیٹیوں کی چیئرمین شپ حکومتی اتحاد یا نیشنل کانفرنس سے وابستہ افراد کو دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل میں اپوزیشن کو مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔یو این ایس کے مطابق دوسری جانب بی جے پی کے نائب قائد اسمبلی سریجیت سنگھ سلاتھیا نے کہا کہ انہیں باقاعدہ طور پر کمیٹیوں کے لیے نام فراہم کرنے کا فارمیٹ دیا گیا تھا، اور انہوں نے پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد تینوں فنانس کمیٹیوں کے لیے نام اسپیکر کو ارسال کیے۔ ان کے مطابق ان کی جانب سے دیے گئے تقریباً تمام نام منظور کر لیے گئے ہیں۔اسپیکر نے مزید وضاحت کی کہ فنانس کمیٹیوں کے ارکان کو دیگر اسمبلی پینلز کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا، جس کی وجہ سے بعض سینئر اراکین دیگر کمیٹیوں کی چیئرمین شپ کے اہل نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک آئینی و انتظامی طریقہ کار ہے جس کا مقصد کمیٹیوں کی مو ¿ثر کارکردگی کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ باقی اسمبلی کمیٹیوں کی چیئرمین شپ اور رکنیت کا اختیار اسپیکر کے پاس ہوتا ہے، اور اس عمل میں تمام سیاسی جماعتوں کو مناسب نمائندگی دی گئی ہے۔ اسپیکر کے مطابق اسمبلی میں کمیٹیوں کی تشکیل ہمیشہ اتفاق رائے سے کی جاتی رہی ہے، اور ماضی میں بھی فنانس کمیٹیوں کی چیئرمین شپ اسی طریقہ کار کے تحت طے کی گئی تھی۔
