0

پارس ہیلتھ سرینگر کے تین سال — امید، شفاء اور انسانیت کا سفر

سرینگر، 15 مئی: عقاب نیوز ڈیسک//وادیٔ کشمیر میں معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے عزم کے ساتھ قائم ہونے والے پارس ہیلتھ سرینگرے اپنی خدمت کے تین کامیاب سال مکمل کر لیے — یہ محض وقت کا گزرنا نہیں، بلکہ درد کو سمجھنے، اعتماد جیتنے اور لاکھوں دلوں تک پہنچنے کا ایک انسانی سفر ہے۔

ایک خواب جو حقیقت بنا

سن 2006 میں گروگرام سے شروع ہونے والا پارس ہیلتھ کا یہ قافلہ آج گروگرام، پٹنہ، دربھنگہ، پنچکولہ، رانچی، اُدے پور، کانپور اور سرینگر تک پھیل چکا ہے۔ ہر قدم پر ایک ہی فلسفہ رہا:

“علاج سے بھی آگے — انسانی فکر اور محبت کے ساتھ دیکھ بھال”

ڈاکٹر دھرمیندر ناگر کی بات — دل کی گہرائیوں سے

میینجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر دھرمیندر ناگرنے اس موقع پر کہا:

“ہسپتال صرف دیواروں اور سازوسامان کا نام نہیں ہوتا۔ اس کی اصل روح وہ ڈاکٹر، نرسیں اور طبی عملہ ہوتا ہے جو دن رات انسانیت کی خدمت میں جتا رہتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا:

“ہم یہاں اس لیے آئے کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ کشمیر کے لوگوں کو علاج کے لیے باہر نہ جانا پڑے۔ انہیں اپنے گھر کے قریب، اپنے قابل ڈاکٹروں کے ہاتھوں، بہترین علاج ملے — بغیر کسی اضافی جذباتی یا مالی بوجھ کے۔”

وادی کا اعتماد — سب سے بڑا اعزاز

زونل ڈائریکٹر سیما وگ نے ڈاکٹروں، نرسوں اور معاون عملے کی محنت اور لگن کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اس ادارے کو اعتماد کی علامت بنایا۔

فیسلٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر مرتضٰی حبیب نے کشمیر کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کا یہ بھروسہ ہی ہماری سب سے بڑی دولت ہے، اور ہم اس اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

تین سال — ہزاروں کہانیاں

یہ تین سال صرف تاریخوں کا حساب نہیں — یہ ہر اس مریض کی کہانی ہے جو شفایاب ہوا، ہر اس خاندان کی راحت ہے جسے سکون ملا، اور ہر اس طبی کارکن کی عزیمت ہے جس نے مشکل حالات میں بھی ہمت نہ ہاری۔

پارس ہیلتھ سرینگر کی انتظامیہ کے مطابق:

“یہ ادارہ محض ایک ہسپتال نہیں — یہ اعتماد، وقار، درد مندی اور ایک صحت مند کشمیر کی امید پر استوار ایک رشتہ ہے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں