عقاب نیوز ڈیسک ۔۔۔
اننت ناگ | بیورو رپورٹ| 8 مئی/جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں پولیس نے منشیات کے نیٹ ورک کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی مالی کارروائی کرتے ہوئے ایک بدنام زمانہ اسمگلر اور اس کے خاندان کی ساڑھے چھ کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کر لی ہیں۔ یہ کارروائی این ڈی پی ایس (NDPS) ایکٹ کی دفعہ 68-F کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔ پولیس کی جانب سے کی گئی تفصیلی انکوائری میں یہ انکشاف ہوا کہ ڈونی پورہ سنگم کے رہائشی بشیر احمد میر اور ان کے اہل خانہ نے یہ تمام اثاثے منشیات کی غیر قانونی تجارت سے حاصل کردہ رقم کے ذریعے بنائے تھے، جو ان کی آمدنی کے ظاہری ذرائع سے کہیں زیادہ تھے۔
تحقیقات کے دوران اس خاندان کا سنگین مجرمانہ ریکارڈ بھی منظرِ عام پر آیا ہے۔ بشیر احمد میر کے خلاف تھانہ بجبہاڑہ میں پہلے ہی منشیات کی اسمگلنگ کے متعدد مقدمات درج ہیں، جن میں 2024 میں 58 کلوگرام سے زائد پوست کا چورا اور 2020 میں چرس کی برآمدگی شامل ہے۔ مزید برآں، ملزم کے والد گل محمد میر بھی 2011 سے منشیات فروشی کے ایک مقدمے میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ان شواہد کی بنیاد پر پولیس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ خاندان ایک منظم طریقے سے منشیات کے کاروبار میں ملوث رہ کر ناجائز دولت جمع کر رہا تھا۔
قرق کی گئی جائیدادوں میں ڈونی پورہ سنگم میں واقع دو منزلہ رہائشی مکانات، ایک نیا تعمیر شدہ مکان اور “مسکان ریسٹورنٹ” کے نام سے مشہور تجارتی عمارت شامل ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے سنگم اور نائینہ کے علاقوں میں تقریباً 211 مرلہ اراضی اور ایک قیمتی ہیونڈائی کریٹا گاڑی (نمبر JK03H-5758) کو بھی اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ ان تمام اثاثوں کی مجموعی مالیت تقریباً 6.5 کروڑ روپے بنتی ہے، جسے اب سرکاری طور پر منجمد کر دیا گیا ہے۔
اننت ناگ پولیس کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ یہ کارروائی منشیات فروشوں کے مالی ڈھانچے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے پختہ عزم کا حصہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس نہ صرف اسمگلروں کو سلاخوں کے پیچھے بھیج رہی ہے بلکہ ان کی کالی کمائی سے بنائے گئے اثاثوں کو بھی قانون کے دائرے میں لا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ضلع کو منشیات سے پاک کرنے کی یہ مہم پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گی اور کسی بھی فرد کو معاشرے کی رگوں میں زہر گھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
0
