ہر سو ماتم کاسماں،ہر آنکھ نم،علاقے میں کہرام و چیخ وپکار،دل ملول لوگ
وسن گاندربل میں نالہ سندھ سے 13دن بعد لاپتہ نوجوان کی لاش برآمد
سرینگر//8مئی// شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے حاجن علاقے میں جمعہ کے روز ایک افسوسناک سانحہ پیش آیا جہاں دریائے جہلم میں ڈوبنے سے تین نوجوان جاں بحق ہوگئے۔ حکام کے مطابق یہ حادثہ چک چندرگیر علاقے میں ا ±س وقت پیش آیا جب نوجوان دریا کے کنارے خیموں کا سامان دھو رہے تھے اور اچانک پاو ¿ں پھسلنے سے تیز بہاو ¿ کی زد میں آ گئے۔عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے فوراً بعد علاقے میں کہرام مچ گیا جبکہ مقامی لوگوں، رضاکاروں اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر بچاو ¿ کارروائی شروع کی۔ ابتدائی تلاش کے دوران دو نوجوانوں کی لاشیں دریا سے نکال لی گئیں، تاہم تیسرے نوجوان کی تلاش کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ بعد ازاں مسلسل ریسکیو آپریشن کے بعد اس کی لاش بھی برآمد کر لی گئی۔یو این ایس کے مطابق حکام نے جاں بحق نوجوانوں کی شناخت 18 سالہ عادل احمد ڈار ولد بشیر احمد ڈار، 22 سالہ سمیر احمد ڈار ولد محمد جمال ڈار، اور 22 سالہ سہیل احمد ڈار ولد غلام نبی ڈار کے طور پر کی ہے۔ تینوں نوجوان چندرگیر حاجن کے رہائشی تھے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت نوجوان معمول کے کام میں مصروف تھے، تاہم دریائے جہلم کے تیز بہاو ¿ نے انہیں سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ واقعے کے بعد پورے علاقے میں غم و اندوہ کی فضا چھا گئی جبکہ سوگوار خاندانوں کے گھروں میں کہرام مچ گیا۔ریسکیو کارروائی میں پولیس، مقامی رضاکاروں اور شہریوں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ حکام کے مطابق لاشوں کو بعد میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں قانونی اور طبی لوازمات مکمل کیے جا رہے ہیں۔ادھر مقامی سماجی اور مذہبی حلقوں نے اس المناک سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی ظاہر کی ہے۔ علاقے کے لوگوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ دریا کے خطرناک مقامات پر حفاظتی اقدامات کو مزید مو ¿ثر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے دردناک واقعات سے بچا جا سکے۔اس دوران وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں تیرہ روز سے لاپتہ نوجوان کی لاش جمعہ کے روز نالہ سندھ سے برآمد کر لی گئی۔ حکام کے مطابق نوجوان کی تلاش کیلئے گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری تھا۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ متوفی کی شناخت منیر احمد شاہ ولد محبوب شاہ ساکن وسن بیلہ کے طور پر کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق نوجوان مبینہ طور پر قریب دو ہفتے قبل دریائے سندھ میں ڈوب گیا تھا، جس کے بعد فوری طور پر تلاش مہم شروع کی گئی تھی۔حکام کے مطابق جمعرات کی صبح ایک بار پھر وسن بیلہ اور ملحقہ علاقوں میں سرچ آپریشن تیز کیا گیا، جس میں جموں و کشمیر پولیس، ایس ڈی آر ایف کی گاندربل، مناسبل اور گنڈ یونٹس کے اہلکاروں کے علاوہ مقامی رضاکاروں اور شہریوں نے حصہ لیا۔ریسکیو ٹیمیں مسلسل مختلف مقامات پر دریا کے کناروں اور بہاو ¿ والے علاقوں کی تلاشی لے رہی تھیں۔ طویل اور دشوار گزار آپریشن کے بعد آخرکار جمعہ کو نوجوان کی لاش ا ±س مقام کے قریب برآمد ہوئی جہاں اس کے لاپتہ ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔لاش برآمد ہونے کے بعد علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی جبکہ اہل خانہ پر رقت طاری ہوگئی۔ مقامی لوگوں نے بھی نوجوان کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔حکام کے مطابق لاش کو قانونی اور طبی لوازمات کی تکمیل کیلئے اسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ مزید کارروائی جاری ہے۔
