اننت ناگ : جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے دمہال خوشی پورہ میں نیو ٹائپ پرائمری ہیلتھ سینٹر (این ٹی پی ایچ سی) کو تالہ لگانے کے معاملے پر پولیس نے کانگریس کے سینئر رہنما اور ایم ایل اے پیرزادہ محمد سعید کی اہلیہ اور بیٹے کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کوکرناگ کی شکایت پر پولیس اسٹیشن اچھہ بل میں ایف آئی آر نمبر 32/2026 درج کی گئی ہے۔
یہ کارروائی اس واقعے کے بعد عمل میں آئی جب گزشتہ روز تحصیلدار کوکرناگ نے محکمہ صحت اور عام لوگوں کی شکایات کے پیش نظر این ٹی پی ایچ سی کے گیٹ کا تالا توڑ دیا۔
پرائمری ہیلتھ سینٹر اس وقت تنازع کی زد میں آ گیا جب کانگریس ایم ایل اے پیرزادہ محمد سعید کے خاندان کی جانب سے اسپتال کی عمارت کو تالہ لگا دیا گیا۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق مذکورہ عمارت سال 2008 میں عوامی استعمال کے لیے عطیہ کی گئی تھی اور اسے روگی کلیان سمیتی سعیدہ میموریل ہسپتال، پی ایچ سی دمہال کے طور پر رجسٹر کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق ایم ایل اے کی اہلیہ، جو محکمہ صحت میں ایک سینئر افسر بھی ہیں، نے اسپتال کو بند کر دیا جس کے بعد انتظامیہ کو مداخلت کرنی پڑی۔ موقعے پر مجسٹریٹ تعینات کیا گیا اور تالے توڑ کر اسپتال کو دوبارہ کھولا گیا۔
دریں اثنا، ایم ایل اے کی اہلیہ نے الزام عائد کیا کہ ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، تاہم انتظامیہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
دستاویزات کے مطابق سال 2008 سے اب تک یہ ہیلتھ سینٹر مسلسل فعال رہا ہے اور اسے نیشنل رورل ہیلتھ مشن، آر کے ایس اور کیپیکس بجٹ کے تحت فنڈز بھی فراہم کیے جاتے رہے ہیں، جب کہ بجلی، پانی اور سڑک جیسی بنیادی سہولیات بھی متعلقہ محکموں کی جانب سے فراہم کی گئی ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بن گیا جب سوشل میڈیا پر ایم ایل اے کی اہلیہ کا ویڈیو وائرل ہوا، جن میں انہوں نے تحصیلدار کوکرناگ پر مختلف الزامات عائد کیے۔
تحصیلدار کوکرناگ کے مطابق مقامی لوگوں نے شکایت کی تھی کہ ہیلتھ سینٹر کو تالہ لگنے کے باعث ایمبولینس اور ضروری ادویات تک رسائی متاثر ہوئی ہے۔ بعد ازاں محکمہ صحت نے ضلع ترقیاتی کمشنر اننت ناگ کو اس معاملے سے آگاہ کیا، جس کے بعد ریونیو، پولیس اور ہیلتھ حکام کی موجودگی میں ہیلتھ سینٹر کو دوبارہ کھول دیا گیا۔ متعلقہ ایم ایل اے سے موقف جاننے کی کوشش کی گئی تاہم ان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل مذکورہ نیو ٹائپ پرائمری ہیلتھ سینٹر (این ٹی پی ایچ سی ) کو لے کر تنازع شدت اختیار کر گیا، جہاں اننت ناگ ـ44 کے ایم ایل اے کی جانب سے مبینہ طور پر ہیلتھ حکام پر عمارت خالی کرانے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
دستاویزی شواہد کے مطابق چیف میڈیکل افسر اننت ناگ نے بلاک میڈیکل افسر (بی ایم او) لارنو کو ایک خط زیر نمبر BMO/L/2025-2026/993 مؤرخہ 23 اپریل 2026 کے ذریعہ اس معاملے میں حقائق پر مبنی رپورٹ جمع نہ کرانے پر تشویش ظاہر کی تھی۔ اس سے قبل بھی 10 جنوری سال 2026 کو ایک خط کے ذریعے دو دن کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی تھی، تاہم کئی ماہ گزرنے کے باوجود رپورٹ جمع نہیں کی گئی۔
سرکاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ رپورٹ میں تاخیر کے باعث معاملے کی پیش رفت متاثر ہو رہی ہے، جب کہ متعلقہ ایم ایل اے کی جانب سے این ٹی پی ایچ سی عمارت کو خالی کرانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بعد میں بی ایم او کو ہدایت دی گئی کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر مکمل رپورٹ پیش کریں اور یہ واضح کریں کہ عمارت کن حالات میں حاصل کی گئی اور آیا یہ باقاعدہ منظور شدہ طبی ادارہ ہے یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ ہیلتھ سینٹر کو تقریباً 15 سال قبل حکومت نے منظور کیا تھا اور یہاں تعینات عملہ بھی کافی عرصے سے خدمات انجام دے رہا ہے۔ پولیس نے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے اور مزید قانونی کارروائی متوقع ہے۔(ETV BHARAT)
