0

میرواعظ کشمیر کا شراب پر مکمل پابندی کا مطالبہ، منشیات مخالف مہم کی حمایت

سرینگر 8 مئی: میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کی جانب سے جموں کشمیر میں جاری منشیات مخالف مہم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سماج میں شراب کی بڑھتی دستیابی اور اس کا عام ہونا بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے حکومت سے جموں و کشمیر میں شراب پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔

نماز جمعہ سے قبل سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علیحدگی پسند لیڈر مولوی عمر فاروق نے کہا کہ “سماج کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ نشہ صرف منشیات تک ہی محدود نہیں بلکہ شراب بھی ایک نشہ آور اور خطرناک سماجی برائی ہے۔”

انہوں نے کہا: “حکومت کو جموں و کشمیر میں شراب سے متعلق اپنی پالیسی پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور مکمل پابندی عائد کرنی چاہیے، کیونکہ نوجوانوں کو بچانے کے لیے تمام نشہ آور اشیا کے خلاف مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔”

میرواعظ نے کہا کہ اسلام نے ہمیشہ نشہ آور چیزوں کو سختی سے حرام قرار دیا ہے کیونکہ یہ فرد اور سماج دونوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی تنازع، غیر یقینی صورتحال، ذہنی دباؤ اور محدود معاشی مواقع کے ماحول میں پلنے والی نوجوان نسل منشیات اور نشے کی طرف زیادہ مائل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو صرف قانون و انتظام یا گرفتاریوں اور جائیداد ضبطی کی خبروں تک محدود نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا: “منشیات کے خلاف کارروائی ضروری ہے، لیکن سماج میں شراب کی بڑھتی دستیابی بھی اتنی ہی فکر کی بات ہے۔”

سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سینکڑوں لائسنس یافتہ شراب کی دکانیں ہیں اور حالیہ برسوں میں شراب کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے سوال کی: “کیا ایک نشے کے خلاف لڑتے ہوئے دوسرے نشے کو فروغ دیا جا سکتا ہے؟”

گجرات، بہار اور ناگالینڈ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو صرف آمدنی نہیں بلکہ سماجی فلاح و بہبود اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھ کر پالیسیاں بنانی چاہئیں۔

سراج العلوم کی بندش پر میرواعظ کو تشویش
اپنی تقریر میں میرواعظ نے یو اے پی اے (UAPA) کے تحت جامعہ سراج العلوم پر پابندی کو بھی ایک سنگین معاملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا: “اس فیصلے سے طلبہ کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔”

ضلع شوبیاں میں سراج العلوم نامی ایک مدرسہ پر پابندی کے خلاف اس میں زیر تعلیم طلبہ اور ان کے والدین کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس فیصلے نے لوگوں میں کتنی بے چینی اور اضطراب پیدا کیا ہے۔”

میرواعظ نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس فیصلے پر دوبارہ غور کرے اور سخت اقدامات کے ذریعے لوگوں کو دور کرنے کے بجائے ان کا اعتماد اور خیرسگالی حاصل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں