سرینگر: نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو (این سی آر بی) کی جانب سے جاری کردہ “کرائم اِن انڈیا 2024” رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر جرائم میں کمی درج کی گئی ہے تاہم خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم اب بھی تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب یونین ٹیریٹری لداخ میں جرائم کی مجموعی شرح نسبتاً کم رہی، لیکن وہاں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
این سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں سال 2024 کے دوران مجموعی طور پر 26,362 جرائم درج ہوئے، جبکہ یہ تعداد 2023 میں 29,595 اور 2022 میں 30,197 تھی۔ وہیں لداخ میں 2024 کے دوران 541 جرائم درج ہوئے جبکہ 2023 میں یہ تعداد 522 اور 2022 میں 478 تھی۔
رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں 2024 کے دوران 22,577 آئی پی سی/بی این ایس جرائم درج ہوئے، جبکہ لداخ میں ایسے 460 معاملات سامنے آئے۔ جموں و کشمیر میں جرائم کی شرح فی ایک لاکھ آبادی پر 164.4 رہی، جبکہ لداخ میں یہ شرح 152.3 ریکارڈ کی گئی۔
خواتین کے خلاف جرائم
این سی آر بی رپورٹ میں جنسی جرائم، پوکسو (POCSO)ایکٹ اور عصمت دری سے متعلق معاملات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر میں 2024 کے دوران پوکسو ایکٹ کے تحت 308 مقدمات درج ہوئے، جبکہ لداخ میں ایسے 6 معاملات رپورٹ ہوئے۔ عصمت دری سے متعلق مخصوص دفعات کے تحت جموں و کشمیر میں 22 مقدمات درج کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق 16 سال یا 12 سال سے کم عمر لڑکیوں کے ساتھ عصمت دری کا کوئی معاملہ درج نہیں ہوا، جبکہ لداخ میں بھی ایسے کیس سامنے نہیں آئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم کے معاملے میں جموں و کشمیر کے اعداد و شمار ملک کی کئی بڑی ریاستوں جیسے اتر پردیش، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور راجستھان کے مقابلے میں کم رہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کم مقدمات کا مطلب یہ نہیں کہ جرائم کم ہیں، کیونکہ سماجی دباؤ، رپورٹنگ کا نظام اور پولیس تک رسائی مختلف علاقوں میں الگ الگ ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق خصوصی اور مقامی قوانین کے تحت درج مقدمات میں چارج شیٹ داخل کرنے کی شرح جموں و کشمیر میں 91.1 فیصد جبکہ لداخ میں 97.4 فیصد رہی۔
بچوں کے خلاف جرائم
این سی آر بی کے مطابق جموں و کشمیر میں بچوں کے خلاف جرائم اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، خاص طور پر تحقیقات اور عدالتی کارروائی میں تاخیر کے معاملے میں۔
2024 کے اختتام تک جموں و کشمیر میں بچوں کے خلاف جرائم کے 537 مقدمات زیر تفتیش رہے، جبکہ لداخ میں ایسے 3 مقدمات باقی تھے۔ بچوں کے خلاف جرائم میں چارج شیٹ داخل کرنے کی شرح جموں و کشمیر میں 55.4 فیصد اور لداخ میں 75 فیصد رہی۔ تحقیقات میں زیر التوا مقدمات کی شرح جموں و کشمیر میں 40.1 فیصد جبکہ لداخ میں 15.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
عدالتی اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں 2024 کے دوران بچوں کے خلاف جرائم کے معاملات میں 128 سزائیں اور 144 بریتیں ہوئیں، جبکہ 2,517 مقدمات اب بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
جموں و کشمیر میں سزا کی شرح 9.4 فیصد رہی۔ وہیں لداخ میں سال کے دوران نہ کوئی سزا ہوئی اور نہ ہی بریت، جبکہ 24 مقدمات زیر سماعت رہے۔
قانون سے متصادم کم عمر افراد
رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں گزشتہ تین برسوں کے دوران قانون سے متصادم کم عمر افراد کے معاملات میں کمی درج کی گئی ہے۔ 2022 میں ایسے 361 کیس درج ہوئے تھے، جو 2023 میں 358 اور 2024 میں کم ہو کر 275 رہ گئے۔
یونین ٹریٹری میں کم عمر جرائم کی شرح 5.6 رہی، جبکہ لداخ میں گزشتہ تین برسوں کے دوران ایسا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا۔
جرائم کا مجموعی رجحان
این سی آر بی کے مطابق جموں و کشمیر میں گزشتہ تین برسوں کے دوران مجموعی جرائم میں مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ آئی پی سی/بی این ایس جرائم کی تعداد 2022 میں 25,915 تھی، جو 2023 میں 25,127 اور 2024 میں کم ہو کر 22,577 رہ گئی۔
اسی طرح خصوصی اور مقامی قوانین کے تحت جرائم کی تعداد بھی 2024 میں کم ہو کر 3,785 رہ گئی، جبکہ 2023 میں یہ 4,468 تھی۔
لداخ میں آئی پی سی/بی این ایس جرائم تقریباً مستحکم رہے۔ 2022 میں یہ تعداد 439 تھی، جو 2023 میں 459 اور 2024 میں 460 رہی۔
این سی آر بی کے مطابق 2024 میں جموں و کشمیر میں مجموعی جرائم کی شرح فی ایک لاکھ آبادی پر 192 رہی، جبکہ لداخ میں یہ شرح 179.1 ریکارڈ کی گئی۔ دونوں خطوں میں یہ شرح ملک کی کئی بڑی ریاستوں اور شہروں کے مقابلے میں کم رہی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جموں و کشمیر میں 2024 کے دوران آئی پی سی/بی این ایس مقدمات میں چارج شیٹ داخل کرنے کی شرح 78 فیصد رہی، جبکہ لداخ میں یہ شرح 75.6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
(ETV BHARAT)
