سرینگر: گزشتہ برس جموں و کشمیر میں ہوئے راجیہ سبھا انتخابات نے برسر اقتدار نیشنل کانفرنس (این سی) اور اپوزیشن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے درمیان لفظی جنگ چھیڑ دی ہے۔
یہ تازہ تنازع اُس وقت شروع ہوا جب این سی کے ترجمان اعلیٰ اور رکن اسمبلی تنویر صادق نے منگل کے روز پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور ان تین ایم ایل ایز کو “قرآن پر حلف اٹھانے” کا چیلنج کیا انہوں نے راجیہ سبھا انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار ستپال شرما کو ووٹ نہیں دیا۔
اس کے جواب میں پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید پرہ نے کہا کہ “نیشنل کانفرنس کا راجیہ سبھا ووٹ پر شور مچانا اصل میں بنیادی مسائل، خاص طور پر سراج العلوم اور سرکاری ریکارڈ سے اردو زبان کو ہٹانے کے معاملات سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔”
پرہ نے حال ہی میں جموں و کشمیر کے ڈویژنل کمشنر کی جانب سے جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں واقع سراج العلوم اسکول و کالج کو یو اے پی اے (UAPA)کے تحت بند کرنے اور محکمہ مال کی ملازمتوں سے اردو زبان کو ہٹانے کی تجویز کا حوالہ دیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ راجیہ سبھا ووٹنگ کا عمل شفاف اور باقاعدہ تھا، اور یہ کہ اہم فیصلے جیسے تین ووٹوں کے لیے ایجنٹ مقرر کرنا نیشنل کانفرنس کی ذمہ داری تھی۔ پرہ نے کہا: “اگر پی ڈی پی پر الزام یہ ہے کہ اس نے اپنے تین ووٹوں کے لیے ایجنٹ مقرر نہیں کیا، تو میں وزیراعلیٰ سے پوچھتا ہوں کہ وہ پی ڈی پی کے ارکان پر اعتماد نہیں کرتے تو پھر کسی ایجنٹ پر کیسے کریں گے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ نائب صدر کے انتخابات کے دوران آغا روح اللہ نے خود کہا تھا کہ نیشنل کانفرنس نے اپنے ارکان پارلیمنٹ کو واضح ہدایات نہیں دی تھیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ این سی بی جے پی کے ساتھ ملی ہوئی ہے؟” پرہ نے ان باتوں کا اظہار سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ “پی ڈی پی کو نشانہ بنا کر نیشنل کانفرنس نے کسی حریف کو کمزور نہیں کیا بلکہ عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔” ایم ایل اے پلوامہ، وحید پرہ، نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ این سی کے ترجمان عمران نبی ڈار نے 2024 کے اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ نہ ملنے کے بعد پی ڈی پی میں شامل ہونے کی کوشش کی تھی، لیکن حکمتِ عملی کے تحت انہیں شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ این سی کے کئی سینئر رہنما اب بھی پی ڈی پی قیادت سے رابطے میں رہتے ہیں، مگر پارٹی قیادت عدم استحکام سے بچنے کے لیے اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی۔
ان الزامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے این سی کے ترجمان عمران نبی ڈار نے کہا کہ پی ڈی پی کے کم عمر رکن اسمبلی اور ان کے ساتھی جب راجیہ سبھا انتخابات میں اپنے “دھوکے” کی وضاحت نہیں کر پاتے تو جھوٹی کہانیاں گھڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا: “اس معاملے کو صرف ایک نشست قرار دینا جموں و کشمیر کے لوگوں کی توہین ہے۔ یہ نشست وفاداری کا امتحان تھی اور پی ڈی پی نے دکھا دیا کہ وہ کہاں کھڑی ہے—بی جے پی کے ساتھ۔ آپ کی توجہ ہٹانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ آپ نے ایسا کیوں کیا۔”
پرہ کا کہنا ہے کہ ایک راجیہ سبھا نشست کے نقصان پر الزام تراشی کے بجائے حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے 50 ایم ایل ایز اور 5 ارکان پارلیمنٹ کے ذریعے بہتر حکمرانی کو یقینی بنائیں۔
گزشتہ ایک ہفتے سے حکمران جماعت نیشنل کانفرنس، اکتوبر 2025 میں ہوئے راجیہ سبھا انتخابات سے متعلق ووٹنگ تنازع پر پی ڈی پی کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ ان انتخابات میں 59 ارکان کی حمایت رکھنے والی این سی نے تین نشستیں جیتیں جبکہ صرف 28 ایم ایل ایز رکھنے والی بی جے پی نے ایک نشست حاصل کی۔
یہ تنازع اُس وقت شدت اختیار کر گیا جب گزشتہ ماہ ایک آر ٹی آئی سے انکشاف ہوا کہ این سی اور بی جے پی نے دو دو پولنگ ایجنٹس مقرر کیے تھے، جبکہ اس وقت تین (اب چار) ارکان رکھنے والی پی ڈی پی نے کوئی بھی ایجنٹ مقرر نہیں کیا تھا۔ کانگریس، پی ڈی پی، سی پی آئی (ایم) اور عوامی اتحاد پارٹی نے این سی کی حمایت کا دعویٰ کیا تھا۔
پیپلز کانفرنس (پی سی) کے صدر اور ہندوارہ سے ایم ایل اے سجاد غنی لون نے این سی اور پی ڈی پی دونوں پر راجیہ سبھا انتخابات میں “میچ فکسنگ” کا الزام عائد کیا ہے۔ تاہم پی ڈی پی کے ترجمان موہت بھان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ ایجنٹ مقرر کرنا امیدوار کا اختیار ہوتا ہے اور انہوں نے نیشنل کانفرنس کی غیر مشروط حمایت کی تھی۔
