2سال بعد بھی وعدہ پورا نہیں، ”مناسب وقت“کی وضاحت کی جائے.عمر عبداللہ
سرینگر// 6 مئی 2026/: وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز نیشنل کانفرنس کے اراکین اسمبلی کی ممکنہ بغاوت یا پارٹی تبدیل کرنے کی خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ این سی کا کوئی بھی ایم ایل اے بی جے پی کی حمایت کے لیے اپنی جماعت نہیں چھوڑے گا۔ٹنگمرگ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے ان قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔یو این ایس کے مطابق پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے حوالے سے لگائے گئے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں پی ڈی پی نے راجیہ سبھا انتخابات کے دوران بی جے پی کی مدد کی تھی، اور یہ بات حق اطلاعات قانون کے تحت حاصل شدہ معلومات سے پہلے ہی ثابت ہو چکی ہے۔ پی ڈی پی کے حوالے سے ان کے بیان کو سیاسی حلقوں میں اہمیت دی جا رہی ہے، خاص طور پر موجودہ سیاسی ماحول کے تناظر میں۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ان کی حکومت مکمل طور پر خود مختار ہے اور کسی بھی بیرونی تنظیم کی ہدایات پر عمل نہیں کرتی، بلکہ اپنی پالیسیوں اور فیصلوں میں آزادانہ طور پر کام کرتی ہے۔سیاحتی مقامات کی بحالی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر اسمبلی میں تبادلہ خیال ہو چکا ہے، کئی مقامات کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے جبکہ باقی کو مرحلہ وار طریقے سے کھولا جائے گا۔کابینہ میں توسیع کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مناسب وقت پر فیصلہ لیا جائے گا، تاہم فی الحال کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔ عمر عبداللہ نے ریاستی درجے کی بحالی میں مسلسل تاخیر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف مایوس کن ہے بلکہ عوام کے ساتھ کھلی ناانصافی کے مترادف بھی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا جموں و کشمیر کے عوام کو اس لیے سزا دی جا رہی ہے کہ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا وزیر اعلیٰ منتخب نہیں کیا۔ایک تفصیلی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر مرکز کا یہی مو ¿قف ہے تو اسے صاف الفاظ میں عوام کے سامنے رکھا جانا چاہیے تھا۔ “اگر واقعی شرط یہ تھی کہ بی جے پی کا وزیر اعلیٰ بنے بغیر ریاستی درجہ نہیں ملے گا تو حکومت کو پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ میں یہ بات واضح کرنی چاہیے تھی۔انہوں نے کہا اس سے کم از کم عوام کو حقیقت کا علم ہوتا اور وہ اپنے سیاسی فیصلے اسی بنیاد پر کرتے ہیں۔ یو این ایس کے مطابق عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی کا وعدہ کئی بار کیا گیا، مگر اس پر عمل درآمد نہ ہونا ایک سنگین وعدہ خلافی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اسمبلی انتخابات کو گزرے تقریباً 20 ماہ ہو چکے ہیں، جبکہ جلد بحالی کا وعدہ اب اپنی معنویت کھو چکا ہے۔ انہوں نے کہا”ہم اس مرحلے سے بہت آگے نکل چکے ہیں جہاں ‘جلد’ کا لفظ استعمال کیا جا سکتا تھا۔ اب یہ تاخیر بلا جواز محسوس ہوتی ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کوئی بھی اس تاخیر کی واضح وجہ نہیں بتا رہا۔“انہوں نے کہا کہ مرکز کی جانب سے بار بار “مناسب وقت” کی بات کی جاتی ہے، مگر اس اصطلاح کی نہ کوئی تعریف دی گئی ہے اور نہ ہی کوئی ٹائم لائن مقرر کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اگر اس کا کوئی واضح پیمانہ ہوتا تو حکومت اس کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دے سکتی تھی۔ انہوں نے زور دیا”ہمیں یہ تو بتایا جائے کہ مناسب وقت کیا ہے اور اسے کیسے ناپا جائے، تاکہ ہم بھی اس سمت میں پیش رفت کر سکیں۔“وزیر اعلیٰ نے یاد دلایا کہ مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کے حوالے سے تین نکاتی روڈ میپ پیش کیا تھا، جس میں حد بندی، انتخابات اور ریاستی درجہ شامل تھے۔ ان کے مطابق پہلے دو مراحل مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ ان کی حکومت بھی اپنی مدت کے دو سال مکمل کرنے کے قریب ہے، اس کے باوجود تیسرے مرحلے میں غیر معمولی تاخیر کی جا رہی ہے۔انہوں نے اپوزیشن لیڈر سنیل شرما کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ ریاستی درجہ کا معاملہ سیاسی مفادات سے جوڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا”جب یہ کہا جاتا ہے کہ عمر عبداللہ کو ریاستی درجہ کیوں دیا جائے، تو اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ فیصلہ عوام کے بجائے سیاست کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔“آرٹیکل 370 کی منسوخی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس معاملے پر مرکزی حکومت سے بات چیت کرنا بے سود ہے۔ ان کے مطابق عوام کو حقیقت پسندانہ تصویر دکھانا ضروری ہے، نہ کہ ایسے وعدے کرنا جو پورے نہ ہو سکیں۔ انہوں نے واضح کیا”جو لوگ آپ کو ریاستی درجہ دینے کے لیے تیار نہیں، وہ آپ کو آرٹیکل 370 کیسے واپس دیں گے؟ عوام کو گمراہ کرنا درست نہیں۔“سپریم کورٹ کی جانب سے 2023 میں ریاستی درجہ جلد بحال کرنے کی ہدایت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ “جلد” ایک مبہم اصطلاح ہے، جس کی کوئی واضح مدت نہیں دی گئی۔ عدالت سے رجوع کرنے کے سوال پر انہوں نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے تمام آپشنز زیر غور ہیں، تاہم ایسے فیصلوں میں سیاسی اور قانونی پیچیدگیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔اپنے ناقدین، بشمول محبوبہ مفتی کی قیادت والی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور اپنی جماعت کے بعض حلقوں کی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنقید جمہوریت کا حصہ ہے، مگر عوام کو گمراہ کرنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا”کچھ لوگ اپنی پوری سیاست عوام کو بہلانے اور غلط امیدیں دلانے پر قائم رکھتے ہیں، مگر میں ایسا نہیں کروں گا۔ میں دہلی جا کر لوگوں سے جھوٹے وعدے نہیں کروں گا کہ میں آرٹیکل 370 واپس لا سکتا ہوں۔“عمر عبداللہ نے زور دیا کہ نیشنل کانفرنس اپنے بنیادی اصولوں پر قائم ہے اور ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کیلئے سنجیدہ ہے اور ہر ممکن آئینی و جمہوری راستہ اختیار کیا جائے گا تاکہ جموں و کشمیر کو اس کا مکمل ریاستی درجہ واپس دلایا جا سکے۔
