0

جموں و کشمیر میں سیکیورٹی گرڈ کی مضبوطی کیلئے نیم فوجی دستوں کی مرحلہ وار واپسی شروع

سرینگر// 6 مئی 2026/: ملک کی پانچ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اسمبلی انتخابات کے کامیاب اور پرامن انعقاد کے بعد مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر سے عارضی طور پر منتقل کی گئی مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کی کمپنیوں کی واپسی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ عمل مرحلہ وار طریقے سے مکمل کیا جائے گا اور آئندہ دو ہفتوں کے دوران بیشتر کمپنیاں اپنی سابقہ تعیناتیوں پر واپس پہنچ جائیں گی، جبکہ بعض اضافی کمپنیوں کی تعیناتی پر بھی سنجیدگی سے غور جاری ہے۔یو این ایس کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا کہ انتخابی عمل کے دوران کشمیر ڈویژن سے 130 جبکہ جموں ڈویژن سے 57 کمپنیوں کو واپس بلا کر تمل ناڈو اور مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں میں تعینات کیا گیا تھا۔ تمل ناڈو میں 23 اپریل کو سنگل فیز پولنگ کے بعد وہاں تعینات فورسز کی واپسی شروع ہو چکی ہے، جبکہ مغربی بنگال میں دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو پولنگ کے بعد اب وہاں سے بھی فورسز کی واپسی متوقع ہے۔ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو مکمل ہوئی جس کے بعد یہ عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) نے مغربی بنگال میں بعض حساس علاقوں کے پیش نظر چند کمپنیوں کو مزید کچھ دنوں تک وہیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم مجموعی طور پر جموں و کشمیر میں سیکیورٹی گرڈ کو دوبارہ مضبوط بنانے کیلئے فورسز کی واپسی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ادھر، وادی میں سیاحتی سیزن کے آغاز اور برف پگھلنے کے ساتھ ہی پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف مربوط اور تیز رفتار آپریشنز جاری ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے خاص طور پر سیاحتی مقامات، مذہبی مقامات اور اہم شاہراہوں کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے۔ گزشتہ برس پہلگام میں سیاحوں کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد حملے کے بعد حفاظتی انتظامات کو مزید سخت اور مربوط بنایا گیا ہے، جبکہ حساس مقامات پر نگرانی کے جدید نظام بھی نصب کیے جا رہے ہیں۔جموں سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد (آئی بی) کے قریب دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے پہلے ہی اضافی نفری تعینات کی جا چکی ہے۔ بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) اور دیگر ایجنسیوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ موسم بہتر ہونے کے ساتھ ممکنہ دراندازی کی کوششوں کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔مرکزی وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ سیاحتی مقامات کی سیکیورٹی میں کسی قسم کی کمی نہ آنے دی جائے۔ اس مقصد کیلئے دستیاب وسائل کو از سر نو ترتیب دیا جا رہا ہے، جن میں ریزرو پولیس، جموں و کشمیر آرمڈ پولیس اور دیگر مقامی سیکیورٹی یونٹس کی تعیناتی شامل ہے۔یو این ایس کے مطابق سالانہ شری امرناتھ جی یاترا 2026 کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دینے کیلئے اعلیٰ سطحی مشاورت جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق یاترا کیلئے درکار اضافی نیم فوجی کمپنیوں کی تعداد کا فیصلہ جلد کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ایم ایچ اے، فوج اور جموں و کشمیر انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کے درمیان جامع سیکیورٹی جائزہ اجلاس متوقع ہے۔واضح رہے کہ اس سال شری امرناتھ جی یاترا 3 جولائی سے شروع ہو کر 28 اگست تک جاری رہے گی، جو مجموعی طور پر 57 دنوں پر محیط ہوگی۔ یاترا کے دوران لاکھوں عقیدت مندوں کی آمد متوقع ہے جس کے پیش نظر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جاتے ہیں۔یاترا روٹوں، خصوصاً بالہ تل اور ننون (پہلگام) کے راستوں، بیس کیمپوں، جموں-سرینگر قومی شاہراہ اور جموں-پٹھانکوٹ شاہراہ کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جائے گا۔ ان علاقوں میں فوج، سی اے پی ایف، جموں و کشمیر پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کی مشترکہ تعیناتی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ مقدس غار تک جانے والے دونوں راستوں پر کڑی نگرانی رکھی جائے گی۔حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی سیکیورٹی حکمت عملی کا مقصد نہ صرف دہشت گردی کے خطرات کا موثر مقابلہ کرنا ہے بلکہ سیاحوں اور یاتریوں کو محفوظ اور پ ±رامن ماحول فراہم کرنا بھی ہے تاکہ جموں و کشمیر میں سیاحت اور مذہبی سرگرمیاں بلا خوف و خطر جاری رہ سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں