قرضوں پر سود کی شرح آمدن سے دوگنا،وصولی میں کمزوری،نظامی خامیوں پر سوالات
مالی بے توازن کا انکشاف، اربوں کی سرمایہ کاری کے باوجود محدود واپسی
سرینگر//18مئی/ جموں و کشمیر میں سرکاری سرمایہ کاری اور قرضوں کے انتظام پر سنگین سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے مختلف سرکاری کمپنیوں، کارپوریشنوں اور دیگر اداروں میں کی جانے والی بھاری سرمایہ کاری کے باوجود اس کا منافع انتہائی کم رہا ہے، جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگیاں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں، جس سے ریاستی خزانے پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق 31 مارچ 2025 تک یو ٹی حکومت کی مختلف اداروں میں مجموعی سرمایہ کاری 605.10 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اس میں سرکاری کمپنیوں میں 72.26 کروڑ، کوآپریٹو سوسائٹیوں میں 236.50 کروڑ، قانونی کارپوریشنوں میں 193.91 کروڑ اور علاقائی دیہی بینک میں 102.43 کروڑ روپے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سابق ریاست جموں و کشمیر کی 3,426.75 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ابھی تک جموں و کشمیر اور لداخ کے درمیان تقسیم نہیں ہو سکی۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مالی سال 2024-25کے دوران حکومت کو سرمایہ کاری پر صرف 130.78 کروڑ روپے کا منافع حاصل ہوا، جو مجموعی سرمایہ کاری پر محض 3.24 فیصد بنتا ہے۔ اس کے برعکس اسی مدت میں حکومتی قرضوں پر سود کی شرح 6.65 فیصد سے 8.82 فیصد کے درمیان رہی، جو حاصل ہونے والی آمدن سے تقریباً دوگنا ہے۔گزشتہ پانچ برسوں کے اعداد و شمار کے مطابق سرمایہ کاری سے کم منافع اور قرضوں پر زیادہ سود کی وجہ سے حکومت کو مجموعی طور پر 1,883.60 کروڑ روپے کے مالی دباو ¿ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 52 سرکاری شعبے کے اداروں میں 4,031.25 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود صرف ایک ادارہ ہی باقاعدہ منافع دینے میں کامیاب رہا۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے قرضوں کی وصولی انتہائی کمزور ہے۔ مالی سال 2024-25کے دوران 15.09 کروڑ روپے کے قرضے جاری کیے گئے، تاہم صرف 0.44 کروڑ روپے کی واپسی ہو سکی۔ اس طرح بقایا قرضے بڑھ کر 246.56 کروڑ روپے تک پہنچ گئے ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سابق ریاست کے 1,740.44 کروڑ روپے کے قرضے تاحال تقسیم کے مرحلے میں ہیں، جس سے مالی غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔ آڈیٹ رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ وصولیوں میں سستی اور نگرانی کے کمزور نظام کے باعث سرکاری فنڈز غیر فعال ہو رہے ہیں۔رپورٹ میںسفارش کی گئی ہے کہ حکومت ایک واضح ڈیویڈنڈ پالیسی مرتب کرے، سرکاری اداروں کی کارکردگی کی نگرانی سخت کرے اور قرضوں کی وصولی کے لیے مو ¿ثر نظام وضع کرے، تاکہ مالی خسارے کو کم کیا جا سکے۔
