0

وادی میں انسانی اسمگلنگ کا سایہ

نیشنل کرائم بورڈ ریکارڈ رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات
جبری مشقت، شادیاں اور استحصال کے 60 متاثرین شامل،کثریت مردو کی

سرینگر//17 مئی/ سیاحتی حسن، پرسکون وادی اور معمولاتِ زندگی کی بحالی کے دعوو ¿ں کے بیچ جموں و کشمیر میں انسانی اسمگلنگ کا ایک خاموش مگر سنگین بحران ابھر کر سامنے آیا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو (این سی آر بی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق سال 2024 کے دوران جموں و کشمیر میں انسانی اسمگلنگ کے 17 معاملات درج کئے گئے، جو 2023 میں 10 اور 2022 میں 8 تھے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں اس جرم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں جموں و کشمیر میں انسانی اسمگلنگ کے 60 متاثرین کی نشاندہی کی گئی، جن میں جبری مشقت، زبردستی شادیوں، جسم فروشی سے جڑے جنسی استحصال اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کیلئے استعمال ہونے والے افراد شامل ہیں۔ ان متاثرین میں سب سے بڑی تعداد جبری مزدوری کا شکار افراد کی رہی۔ اعداد و شمار کے مطابق 36 افراد کو جبری مشقت، 12 کو زبردستی شادیوں، 8 کو جنسی استحصال جبکہ 2 افراد کو دیگر مقاصد کیلئے اسمگل کیا گیا۔رپورٹ کی ایک اہم اور چونکا دینے والی بات یہ بھی ہے کہ متاثرین میں اکثریت بالغ مردوں کی تھی۔ این سی آر بی کے مطابق 36 بالغ مرد، 16 خواتین اور 18 برس سے کم عمر 8 لڑکیاں انسانی اسمگلنگ کا شکار بنیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے یہ تاثر غلط ثابت ہوتا ہے کہ انسانی اسمگلنگ صرف خواتین اور بچوں تک محدود مسئلہ ہے۔سال 2024 کے دوران پولیس نے انسدادِ انسانی اسمگلنگ کارروائیوں میں 58 افراد کو بازیاب کیا، جن میں 35 نیپالی شہری بھی شامل تھے۔ حکام کے مطابق اس سے بین الریاستی اور ممکنہ طور پر سرحد پار اسمگلنگ نیٹ ورکس کی موجودگی کا اشارہ ملتا ہے جو جموں و کشمیر کے راستوں کو استعمال کر رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے اس سلسلے میں 45 ملزمان کو گرفتار کیا جبکہ 42 افراد کے خلاف چالان پیش کئے گئے۔ اگرچہ چارج شیٹ دائر کرنے کی شرح 81 فیصد رہی، تاہم ایک بھی ملزم کو سزا نہیں ہو سکی کیونکہ تمام مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔کشمیر میں بچوں کے تحفظ اور منشیات کے خلاف کام کرنے والے سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ این سی آر بی کے اعداد و شمار اصل صورتحال کا صرف ایک چھوٹا حصہ ظاہر کرتے ہیں۔ ایک سماجی کارکن کے مطابق انسانی اسمگلنگ اکثر روزگار کے جھانسے، شادی کے وعدوں یا مزدوری کیلئے ہجرت کی آڑ میں انجام دی جاتی ہے اور کئی مرتبہ خاندانوں کو اس وقت تک استحصال کا علم نہیں ہو پاتا جب تک بہت دیر نہ ہو جائے۔ماہرین کے مطابق بے روزگاری، معاشی دباو ¿ اور نوجوانوں میں بڑھتی منشیات کی لت نے جموں و کشمیر کے کئی علاقوں میں لوگوں کو زیادہ غیر محفوظ بنا دیا ہے، جس کا فائدہ اسمگلنگ نیٹ ورکس اٹھا رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق این سی آر بی کے مطابق جموں و کشمیر کے 36 پولیس اضلاع میں اس وقت 26 اینٹی ہیومن ٹریفکنگ یونٹس کام کر رہے ہیں، تاہم حقوقِ انسانی سے وابستہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ صرف متاثرین کو بازیاب کرانا کافی نہیں بلکہ ان کی بازآبادکاری، نفسیاتی مشاورت اور روزگار کی فراہمی بھی ضروری ہے۔ملک گیر سطح پر بھارت میں سال 2024 کے دوران انسانی اسمگلنگ کے 2,135 معاملات درج کئے گئے، جن میں تلنگانہ سرفہرست رہا۔ تاہم کشمیر میں اس مسئلے کو زیادہ حساس تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ طویل تنازعہ، سیاسی غیر یقینی صورتحال اور سماجی دباو ¿ کے باعث انسانی اسمگلنگ یہاں اب بھی ایک ایسا جرم ہے جس پر کھل کر بات نہیں کی جاتی، لیکن جو خاموشی سے جڑیں مضبوط کرتا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں