0

عالمی یومِ عجائب گھر:کشمیر کا ثقافتی ورثہ محفوظ مگر توجہ کا منتظر

ماہرین کا جدید سہولیات، عوامی بیداری اور طلبہ کی شمولیت پر زور

سرینگر//18مئی/ دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی اتوار کو عالمی یومِ عجائب گھر منایا گیا، تاہم ماہرینِ ثقافت اور تاریخ دانوں نے اس موقع پر وادی کے عجائب گھروں کی موجودہ صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا عظیم ثقافتی ورثہ محفوظ ہونے کے باوجود عوامی توجہ سے محروم ہے۔ماہرین کے مطابق کشمیر صدیوں پر محیط تاریخ، قدیم تہذیب، نایاب مخطوطات، قدیم سکوں، شاہی نوادرات اور روایتی فنون کا امین رہا ہے، لیکن عجائب گھروں میں عوامی دلچسپی بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی نسل کا تاریخی ورثے سے رابطہ کمزور پڑ رہا ہے، جس کے باعث ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔یو این ایس کے مطابق سرینگر میں قائم ایس پی ایس میوزیم سمیت دیگر ثقافتی مراکز میں کشمیر کی بدھ مت، وسطی ایشیائی اور اسلامی تاریخ سے وابستہ نایاب آثار محفوظ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان عجائب گھروں کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل آرکائیونگ اور انٹرایکٹو سہولیات سے آراستہ کیا جائے تو یہ نہ صرف تعلیمی مراکز بلکہ اہم سیاحتی مقامات بھی بن سکتے ہیں۔تعلیمی ماہرین نے کہا کہ اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کیلئے میوزیم دوروں کو لازمی بنایا جانا چاہئے تاکہ نوجوان نسل اپنی تاریخ، ثقافت اور تہذیبی ورثے سے واقف ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں زیادہ تر نوجوان سوشل میڈیا اور جدید تفریحی سرگرمیوں کی جانب راغب ہیں جبکہ عجائب گھر ان کی ترجیحات میں شامل نہیں رہے۔ثقافتی کارکنوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نایاب مخطوطات اور قدیم نوادرات کے تحفظ کیلئے جدید لیبارٹریاں قائم کی جائیں کیونکہ نمی، موسمی تبدیلیوں اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے کئی قیمتی آثار کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد نے بھی اس بات پر زور دیا کہ کشمیر کی قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اس کی تاریخی اور ثقافتی پہچان کو بھی عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عجائب گھر وادی کی تہذیبی تاریخ کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔عالمی یومِ عجائب گھر کے موقع پر ماہرین نے حکومت، تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ کشمیر کے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے اور عجائب گھروں کو عوامی دلچسپی کا مرکز بنانے کیلئے مشترکہ کوششیں کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں