تحقیق میں انکشاف،ہزاروں برسوں میں 95 فیصد برف پگھل گئی
موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتا درجہ حرارت ہمالیائی ماحول کیلئے بڑا خطرہ قرار
سرینگر//19 مئی/ کشمیر کے معروف سیاحتی مقام سونہ مرگ کے نزدیک واقع تھاجوس گلیشیئر تیزی سے سکڑتا جا رہا ہے اور گزشتہ ہزاروں برسوں کے دوران اپنی تقریباً 95 فیصد برف کھو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اب یہ گلیشیئر صرف ایک “باقی ماندہ گلیشیئر” بن کر رہ گیا ہے، جو موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتے عالمی درجہ حرارت کی سنگین تصویر پیش کرتا ہے۔یہ چونکا دینے والے انکشافات کشمیر یونیورسٹی اور انٹر یونیورسٹی اسرلیٹر سینٹرکے محققین کی مشترکہ تحقیق میں سامنے آئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق آخری عالمی برفانی دور کے دوران، تقریباً 20 ہزار 770 برس قبل، تھاجیواس گلیشیئر 54 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا تھا، لیکن اب اس کا رقبہ گھٹ کر صرف 2.76 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔یونیورسٹی کے شعبہ ارضیات کے سربراہ غلام جیلانی نے کہا کہ: تھاجوس اب صرف ایک باقی ماندہ گلیشیئر ہے۔ آج ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ دراصل ایک بہت بڑے برفانی نظام کے چھوٹے چھوٹے آثار ہیں، جو کبھی پوری وادی میں پھیلا ہوا تھا۔“یہ تحقیق “پالیو گلیشیائی ریکنسٹرکشن آف دی تھاجیواس گلیشیئر اِن کشمیر ہمالیہ” کے عنوان سے بین الاقوامی تحقیقی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ اس تحقیق میں شکیل احمد رامشو ریاض احمد ڈاراور دیگر سائنس دانوں نے حصہ لیا۔محققین نے جدید سائنسی طریقہ کار “بیریلیم-10 ایکسپوڑر ڈیٹنگ” اور جغرافیائی نقشہ سازی کے ذریعے گزشتہ 20 ہزار برسوں کے دوران گلیشیئر کی تبدیلیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ گلیشیئر نے اپنی تاریخ میں چار بڑے برفانی ادوار دیکھے، جن میں عالمی برفانی عروج، “ینگَر ڈرائیس” سرد دور، ابتدائی ہولوسین اور نیوگلیشیئیشن کا زمانہ شامل ہے۔یو این ایس کے مطابق تحقیق کے مطابق برفانی دور میں تھاجیواس گلیشیئر کا برفانی حجم تقریباً 2.73 کیوبک کلومیٹر تھا، جو اب کم ہو کر صرف 0.09 کیوبک کلومیٹر رہ گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریباً 4200 سال قبل تک گلیشیئر اپنے 64 فیصد رقبے اور 73 فیصد برفانی حجم سے محروم ہو چکا تھا، جبکہ اس کے بعد پگھلنے کا عمل مزید تیز ہوگیا۔مطالعہ کے مطابق نیوگلیشیئیشن دور سے آج تک گلیشیئر نے تقریباً 85.74 فیصد رقبہ اور 87.67 فیصد برفانی حجم کھو دیا ہے۔ماہرین نے تحقیق میں انکشاف کیا کہ گلیشیئر کی “ایکوئی لبریئم لائن آلٹی ٹیوڈ” یعنی وہ بلندی جہاں سالانہ برف باری اور پگھلاو ¿ برابر ہوتے ہیں، تقریباً 873 میٹر اوپر منتقل ہو چکی ہے۔ برفانی دور میں یہ سطح 3365 میٹر تھی جبکہ آج یہ 4238 میٹر تک پہنچ چکی ہے۔تحقیق کے مطابق یہ تبدیلی واضح طور پر اس بات کی علامت ہے کہ ہمالیائی خطے میں درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق برفانی دور کے مقابلے میں تھاجیواس وادی کا درجہ حرارت اب تقریباً 5.7 ڈگری سیلسیس زیادہ ہو چکا ہے، جس کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں یہ گلیشیئر موجودہ مقام سے تقریباً 10 کلومیٹر نیچے تک پھیلا ہوا تھا، لیکن موسمیاتی تبدیلی، کم برف باری اور بڑھتی گرمی نے اس کی ساخت کو شدید متاثر کیا۔تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو کشمیر سمیت پورے ہمالیائی خطے میں آبی وسائل، زرعی نظام، ماحولیات اور انسانی زندگی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے مستقبل میں پانی کی قلت، سیلابی خطرات اور ماحولیاتی عدم توازن بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ماہرین نے کہا کہ کشمیر ہمالیہ میں گلیشیئرز کی یہ تحقیق نہ صرف ماضی کی موسمیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ مستقبل میں پیش آنے والے ماحولیاتی خطرات کا اندازہ لگانے کیلئے بھی نہایت اہم ثابت ہوگی۔تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہمالیائی گلیشیئرز کا تحفظ صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ خطے کے کروڑوں لوگوں کے مستقبل، پانی کی سلامتی اور قدرتی توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
