0

کشمیر کی لاکھوں خواتین کیلئے امید کی نئی کرن

”پی سی او ایس“ کا نام تبدیل، اب “پی ایم او ایس “کے نام سے منصوب
ماہرین کے مطابق نئی شناخت سے بہتر علاج، آگاہی اور بروقت تشخیص میں مدد ملے گی

سرینگر//19 مئی/ کشمیر میں برسوں سے خاموشی کے ساتھ ایک پیچیدہ طبی مسئلے سے نبرد آزما لاکھوں خواتین کیلئے ایک بڑی اور امید افزا تبدیلی سامنے آئی ہے۔ دنیا بھر کے طبی ماہرین، مریضوں کے نمائندوں اور بین الاقوامی اداروں نے “پولی سسٹک اووری سنڈروم’کا نام تبدیل کرکے اب اسے “پولی اینڈوکرائن میٹابولک اوورین سنڈروم” قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی صرف ایک نام کی تبدیلی نہیں بلکہ اس بیماری کی بہتر سمجھ، تشخیص اور علاج کی جانب ایک اہم قدم ہے۔یو این ایس کے مطابق بین الاقوامی طبی جریدے دی لینسٹ میں 12 مئی 2026 کو شائع ہونے والے اعلان کے مطابق اس تبدیلی کیلئے گزشتہ ایک دہائی کے دوران عالمی سطح پر وسیع مشاورت کی گئی جس میں 22 ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے۔ اس عمل کا مقصد اس بیماری سے متعلق برسوں سے چلی آ رہی غلط فہمیوں کو دور کرنا تھا۔ماہرین کے مطابق پرانا نام “پی سی او ایس” بیماری کو صرف اووری میں موجود سِسٹس تک محدود ظاہر کرتا تھا، جبکہ حقیقت میں یہ مسئلہ صرف بیضہ دانی تک محدود نہیں بلکہ پورے جسم کے ہارمونل اور میٹابولک نظام کو متاثر کرتا ہے۔ نئی اصطلاح “پی ایم او ایس” اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ بیماری اینڈوکرائن خرابی، انسولین ریزسٹنس، ہارمونز کے عدم توازن اور میٹابولک مسائل کا مجموعہ ہے، جو ذیابیطس، دل کی بیماریوں، بانجھ پن، ذہنی دباو ¿ اور دیگر پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔عالمی سطح پر اندازاً ہر آٹھ میں سے ایک خاتون اس بیماری سے متاثر ہے، جبکہ کشمیر میں صورتحال زیادہ تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ مختلف مطالعات، جن میں معروف ماہر محمد اشرف گنائی کی تحقیق بھی شامل ہے، کے مطابق وادی کشمیر کے بعض علاقوں میں اس بیماری کی شرح تقریباً 30 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ماہرین کے مطابق کشمیر میں اس بیماری کے زیادہ پھیلاو ¿ کی وجوہات میں جینیاتی عوامل، بدلتا طرزِ زندگی، غیر متوازن غذا اور ماحولیاتی اثرات شامل ہیں۔یو این ایس کے مطابق سرینگر کی معروف اینڈوکرائنولوجسٹ آمنہ خان نے اس تبدیلی کو “بڑی طبی اور سماجی پیش رفت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اکثر لڑکیاں یہ سمجھتی تھیں کہ انہیں صرف اووری میں سِسٹ کا مسئلہ ہے یا یہ محض بانجھ پن سے متعلق بیماری ہے، جبکہ ڈاکٹر بھی بعض اوقات صرف الٹراساو ¿نڈ کی بنیاد پر علامات کو نظر انداز کر دیتے تھے۔انہوں نے کہا”یہ صرف نام کی تبدیلی نہیں بلکہ مریضوں کے تجربات کی توثیق ہے۔ نئی اصطلاح اس بیماری کو ایک مکمل میٹابولک اور ہارمونل مسئلہ کے طور پر سامنے لاتی ہے، جس کیلئے جامع علاج ضروری ہے، جیسے طرزِ زندگی میں تبدیلی، انسولین کنٹرول کرنے والی ادویات، ذہنی صحت کی معاونت اور ذیابیطس و دل کی بیماریوں کی مسلسل نگرانی۔“اننت ناگ کی 22 سالہ طالبہ فاطمہ، جو کئی برسوں سے بے قاعدہ ماہواری، وزن میں اضافے، مہاسوں اور ہارمونل مسائل کا شکار رہی ہے، کا کہنا ہے کہ نئی تبدیلی سے انہیں امید پیدا ہوئی ہے۔فاطمہ نے کہا”مجھے صرف یہ بتایا گیا تھا کہ مجھے پی سی او ایس ہے اور کچھ گولیاں دی گئیں۔ کسی نے مجھے یہ نہیں سمجھایا کہ تھکن، ذہنی دباو ¿ اور ذیابیطس کا خطرہ بھی اس بیماری سے جڑا ہوا ہے۔ اگر اب ڈاکٹر اسے پی ایم او ایس کے طور پر دیکھیں گے تو شاید علاج بھی زیادہ مکمل ہوگا۔“ماہرین صحت کا ماننا ہے کہ اس نئی اصطلاح سے بیماری کی تشخیص میں تاخیر کم ہوگی، مریضوں کے ساتھ جڑی سماجی بدنامی میں کمی آئے گی، تحقیق کیلئے مزید وسائل فراہم ہوں گے اور علاج کو زیادہ جامع اور مو ¿ثر بنایا جا سکے گا۔کشمیر میں جہاں صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ سمیت مختلف اداروں میں آگاہی مہمات اور خصوصی کلینکس قائم کیے جا رہے ہیں، وہاں اس عالمی تبدیلی کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق اگرچہ نئی اصطلاح کو عالمی طبی نظام اور بیماریوں کی بین الاقوامی درجہ بندی میں مکمل طور پر شامل ہونے میں 2028 تک کا وقت لگ سکتا ہے، تاہم جموں و کشمیر میں صحت حکام پہلے ہی ڈاکٹروں کی تربیت، عوامی بیداری اور غیر متعدی بیماریوں کے پروگراموں کے ساتھ اس مسئلے کو مربوط کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ایک کشمیری ماہرِ امراضِ نسواں کے مطابق”کشمیر کی لاکھوں بیٹیوں کیلئے یہ نام کی تبدیلی ایک خاموش انقلاب ہے، جو الجھن اور ادھورے علاج سے نکل کر واضح تشخیص، بہتر نگہداشت اور نئی امید کی طرف قدم ہے۔“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں