2500 کنال سے زائد رقبہ پر تجاوزات، سی ائے جی نے کی حکام کی ناکامی بے نقاب
کھلے پانی میں کمی، آلودگی اور ناقص منصوبہ بندی سے جھیل متاثر،مٹی کے بہاو کو روکنے کے اقدامات کا فقدان
سرینگر//17اپریل// جموں و کشمیر کی معروف ویٹ لینڈ ہوکر سرکی بگڑتی ماحولیاتی حالت پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جھیل تیزی سے تنزلی کا شکار ہے اور اس کی “قدیم خوبصورتی” ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔سال 2023-24کی آڈٹ رپورٹ میں سی اے جی نے انکشاف کیا کہ جھیل کے تقریباً 2528.10 کنال رقبہ پر غیر قانونی تجاوزات ہو چکی ہیں، جہاں تعمیرات، شجرکاری اور زرعی سرگرمیاں جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نوٹس جاری ہونے کے باوجود متعلقہ حکام تجاوزات ہٹانے میں ناکام رہے۔یو این ایس کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مناسب سروے اور حد بندی نہ ہونے کے باعث جھیل کے رقبے پر قبضے بڑھتے گئے، جبکہ کسی جامع تحفظی اور انتظامی منصوبے کی عدم موجودگی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔سی اے جی نے نشاندہی کی کہ آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی نہ ہونا، مٹی کے بہاو ¿ کو روکنے کے اقدامات کا فقدان، ڈریجنگ نہ ہونا اور جھیل کے اندر فلڈ اسپِل چینل کی تعمیر جیسے عوامل نے کھلے پانی کے رقبے میں کمی کا باعث بنے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 2014 سے 2020 کے درمیان جھیل کے کھلے پانی میں 7 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ جھاڑیوں والے علاقے میں 1157 فیصد، مٹی کے جمع ہونے (سلٹیشن) میں 104 فیصد، دریا کے رقبے میں 103 فیصد، تعمیر شدہ علاقے میں 102 فیصد اور آبی پودوں میں 42 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ نے ان تبدیلیوں کو انسانی مداخلت اور ناقص تحفظی اقدامات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ سی اے جی نے کہا کہ وائلڈ لائف پروٹیکشن محکمہ نے کسی جامع منصوبے کے بجائے سالانہ منصوبوں پر انحصار کیا، جو جھیل کے بنیادی مسائل جیسے آبی نظام میں تبدیلی، آلودگی اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو حل کرنے میں ناکام رہے۔سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر ڈیٹا کے تجزیے سے یہ بھی سامنے آیا کہ جھیل کے اطراف حاجی باغ، سوئی بگ اور ایچ ایم ٹی (زیناکوٹ) جیسے علاقوں میں تعمیرات میں اضافہ ہوا ہے، جہاں سیوریج ٹریٹمنٹ کی سہولیات نہ ہونے کے باعث گندا پانی براہ راست جھیل میں شامل ہو رہا ہے۔رپورٹ میں فلڈ مینجمنٹ نظام کی کمزوریوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔ پادشاہی باغ میں قائم فلڈ اسپِل چینل، جس کی گنجائش 17 ہزار کیوسک تھی، سلٹیشن اور ملبے کی وجہ سے کم ہو کر 6 ہزار کیوسک رہ گئی ہے۔ 2018 سے 2022 کے دوران 46.29 کروڑ روپے خرچ ہونے کے باوجود اہم اجزاءجیسے ہائیڈرولک گیٹس، سلٹ ریٹینشن بیسن اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس مکمل نہیں کیے گئے۔تحقیقی مطالعات کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ مقامی آبی حیات ختم ہو رہی ہے اور غیر مقامی پودوں کا پھیلاو ¿ بڑھ رہا ہے، جبکہ پانی میں آکسیجن کی سطح بھی کم ہو رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق سی اے جی نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری اقدامات کی سفارش کی ہے، جن میں آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی اور ان کا تدارک، سائنسی بنیادوں پر ڈریجنگ، مکمل سروے اور حد بندی کے ذریعے مزید تجاوزات کو روکنا اور متاثرہ رقبے کو واپس حاصل کرنا شامل ہے۔رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ جھیل کے تحفظ کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جائے، جو ہائیڈرولوجی، حیاتیاتی تنوع اور آلودگی جیسے تمام پہلوو ¿ں کا احاطہ کرے، تاکہ اس اہم ویٹ لینڈ کے ماحولیاتی توازن اور اس سے وابستہ روزگار کو محفوظ بنایا جا سکے۔واضح رہے کہ ہوکرسر جھیل سرینگر اور بڈگام اضلاع میں واقع ہے اور اسے دودھ گنگا ندی اور سخ ناگ نالہ سے پانی ملتا ہے۔ یہ جھیل 1945 میں نوٹیفائی کی گئی تھی اور بعد ازاںجموں کشمیر وائلڈ لایف(تحفظ) قانون 1978 کے تحت اسے کنزرویشن ریزرو قرار دیا گیا۔
