سرینگر: جموں و کشمیر حکومت سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے لیے پانچ سال بعد لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کی شروع کردہ “نئی صنعتی پالیسی” میں ترمیم کرنے جا رہی ہے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب صنعتکاروں نے پالیسی میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی، جن کی وجہ سے کئی مراعات کے باوجود سرمایہ کار آگے نہیں بڑھے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حال ہی میں اعلان کیا کہ نئی پالیسی تیار کی جائے گی تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ اور صنعتکاری کو بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صنعت و تجارت تمام فریقین سے ان کے تجربات اور تجاویز حاصل کرے گا۔ “ہم ان دونوں پالیسیوں کو ملا کر ایک بہترین پالیسی تیار کریں گے جو یہاں صنعتکاری کو فروغ دے گی۔” عمر عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار سرینگر میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران اُس وقت کیا جب ان سے سرمایہ کاری میں سست روی کے بارے میں سوال کیا گیا۔
اس اعلان کے بعد کاروبار میں آسانی (Ease of Doing Business) اور نئی صنعتی پالیسی میں ترمیم سے متعلق سرکاری کمیٹی نے پیر کے روز جموں ڈویژن کے صنعتی و تجارتی اداروں کے ساتھ اپنی پہلی میٹنگ کی۔ دربار موو کے بعد سرینگر میں بھی ایسی ہی میٹنگز ہوں گی۔ اس کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل چیف سیکرٹری فائنانس شیلیندر کمار کر رہے ہیں، جبکہ اس میں کمشنر سیکریٹری صنعت و تجارت وکرم جیت سنگھ اور جے اینڈ کے بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر و سی ای او امیتاوا چٹرجی شامل ہیں۔
اس میٹنگ میں شریک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز جموں کے صدر ارون گپتا نے کہا کہ صنعتکاروں نے نئی پالیسی میں مخصوص ترامیم تجویز کیں۔ ان میں ریگولیٹری نظام کو آسان بنانا، ضابطوں کا بوجھ کم کرنا، مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانا، انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنا اور نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے ساتھ موجودہ یونٹس کی ترقی کو یقینی بنانا شامل ہے۔
دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کی لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ نے نئی زمین اور صنعتی پالیسیاں متعارف کروائی تھیں، جن میں سرمایہ کاری پر سبسڈی، زمین کی الاٹمنٹ میں نرمی اور ٹیکس میں رعایت جیسی پر کشش شقیں شامل تھیں تاکہ بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے۔ تاہم، متعلقہ فریقین کا کہنا ہے کہ بیوروکریسی کی رکاوٹوں اور دیگر مسائل کے باعث یہ پالیسیاں عملی طور پر سرمایہ کاری میں تبدیل نہ ہو سکیں۔
کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر جاوید ٹینگا نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ “سال 2021 کی پالیسی میں ترامیم ضروری ہیں کیونکہ اس میں کاروبار میں آسانی یا سنگل ونڈو سسٹم مؤثر انداز میں موجود نہیں، جیسا کہ دعویٰ کیا گیا تھا۔”
سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2021 کی صنعتی اور اراضی پالیسی کے بعد حکومت کو سنگل ونڈو پورٹل کے ذریعے 8,532 درخواستیں موصول ہوئیں۔ ان میں 1.69 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجاویز بھی شامل تھیں، جن سے چھ لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی امید ہے۔ ان منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 80,668.91 کنال (4080 ہیکٹر) زمین درکار تھی، جبکہ دستیاب ترقی یافتہ زمین اس سے کم ہے۔
جاوید ٹینگہ کے مطابق زمینی حقیقت ان اعداد و شمار سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمین کی الاٹمنٹ اور کاغذی کارروائی مکمل ہونے میں کئی سال لگ جاتے ہیں، جس سے درخواست گزار بددل ہو جاتے ہیں۔ “حکومت اکثر غیر ترقی یافتہ زمین دیتی ہے، جس سے صنعتیں شروع کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ہم تیار شدہ زمین کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ یونٹ جلد شروع ہو سکیں۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ چار ماہ قبل حکومت کو تجاویز بھیجی جا چکی ہیں۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق کشمیر وادی میں ان پالیسیوں کے لیے سرمایہ کاروں کا ردعمل جموں کے مقابلے میں کم رہا، جبکہ کٹھوعہ اور سانبہ اضلاع اپنی سیکیورٹی، قربت اور پنجاب و نئی دہلی سے بہتر رابطے کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش بنے۔
وزیر صنعت و تجارت اور نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے کہا کہ “نظرثانی شدہ پالیسی میں سرمایہ کاری میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔” انہوں نے بتایا کہ کشمیر میں 1369 مقامی اور آٹھ غیر مقامی سرمایہ کار سامنے آئے، جبکہ جموں میں 205 بیرونی سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری کی۔ انہوں نےمعلومات فراہم کرتے ہوئے کہا: “جموں میں ان سرمایہ کاروں کو 6,408.25 کنال زمین الاٹ کی گئی جبکہ کشمیر میں 408 کنال زمین فراہم کی گئی۔”
(ETV BHARAT)
