0

ٹرمپ کا مذاکرات کے لیے وفد پاکستان بھیجنے کا اعلان، تہران تاحال تذبذب کا شکار

20 :April:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ پیر کو ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنا وفد پاکستان بھیج رہے ہیں، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ختم ہونے میں چند روز باقی ہونے کے باوجود تہران نے تاحال شرکت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نئی سفارتی کوشش کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف دھمکیوں کو بھی دہرایا۔ انہوں نے اتوار کو اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر لکھا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ ایران کے تمام پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنائے گا۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران مذاکرات کے امکان پر سرد مہری کا مظاہرہ کر رہا ہے، خصوصاً اس پس منظر میں کہ امریکی ناکہ بندی بدستور اس کی بندرگاہوں پر برقرار ہے۔
ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کر دی تاکہ تہران کی تیل آمدن روکی جا سکے۔
ایران نے جمعہ کو مختصر وقت کے لیے آبنائے ہرمز کھولی، تاہم اگلے روز امریکی ناکہ بندی برقرار رہنے پر اسے دوبارہ بند کر دیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اجازت کے بغیر گزرنے والی کسی بھی کشتی کو دشمن سے تعاون تصور کیا جائے گا اور اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کو کہا کہ یہ ناکہ بندی جنگ بندی کی خلاف ورزی اور ایرانی عوام کے خلاف غیر قانونی اجتماعی سزا ہے۔
مختصر کھلنے کے دوران چند آئل اور گیس ٹینکرز نے راستہ عبور کیا، تاہم اتوار کی صبح تک یہ گزرگاہ مکمل طور پر خالی تھی۔ اس سے قبل ایرانی فائرنگ اور دھمکیوں کے واقعات نے اس راستے کو انتہائی خطرناک بنا دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں