19 اپریل: عقاب ویب ڈیسک//امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی نمائندے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ رہے ہیں جہاں وہ ایران سے متعلق کشیدگی پر مذاکرات کریں گے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے آبنائے ہرمز میں فائرنگ کی جسے انھوں نے جنگ بندی (سیزفائر) معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کے مطابق فائرنگ کا رخ ایک فرانسیسی جہاز اور برطانیہ کے ایک تجارتی بحری جہاز کی جانب تھا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی نمائندہ وفد اتوار کی شام اسلام آباد پہنچے گا جہاں ممکنہ طور پر ایران سے متعلق صورتحال پر بات چیت کی جائے گی۔
تاہم پاکستان یا ایران کی جانب سے اس دورے یا مجوزہ مذاکرات کے بارے میں فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ’میرے نمائندے اسلام آباد، پاکستان جا رہے ہیں، وہ کل شام وہاں مذاکرات کے لیے موجود ہوں گے۔ ایران نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ آبنائے کو بند کر رہا ہے، جو عجیب بات ہے، کیونکہ ہماری ناکہ بندی نے پہلے ہی اسے بند کر رکھا ہے۔ وہ جانے بغیر ہماری مدد کر رہے ہیں، اور بند راستے سے اصل نقصان انہی کو ہو رہا ہے، روزانہ 500 ملین ڈالر۔{
انہوں نے کہا کہ امریکہ کو کوئی نقصان نہیں ہو رہا۔ درحقیقت، اس وقت بہت سے جہاز امریکہ کی طرف جا رہے ہیں، ٹیکساس، لوزیانا اور الاسکا، تاکہ سامان لوڈ کریں۔ ’یہ پاسداران انقلاب کی بدولت، ہے جو سخت بننا چاہتے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ بہت ہی منصفانہ اور مناسب معاہدہ پیش کر رہا ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ (ایرانی) اسے قبول کریں گے۔ ’کیونکہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو امریکہ ایران کے ہر پاور پلانٹ اور ہر پل کو تباہ کر دے گا۔ اب مزید نرمی نہیں دکھائی جائے گی۔‘
امریکی صدر نے مزید لکھا کہ ’وہ جلدی جھک جائیں گے، آسانی سے جھک جائیں گے، اور اگر انہوں نے معاہدہ قبول نہ کیا تو میرے لیے یہ اعزاز ہوگا کہ میں وہ کروں جو ضروری ہے، جسے پچھلے 47 سالوں میں دیگر صدور کو ایران کے ساتھ کرنا چاہیے تھا۔‘
