ممبئی ، 19 اپریل ( خواتین ریزرویشن بل کے معاملے پر بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سیاسی محاذ آرائی شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں کانگریس کے سینئر رہنما وجئے واڈیٹیوار نے وزیر اعظم نریندر مودی کے بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب سماجی کارکن انجلی دامانیا نے مہایوتی اتحاد اور اس کی کابینہ میں خواتین کی نمائندگی پر سوال اٹھایا، جس کے بعد حکومت دفاعی موقف اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی۔ اس کے بعد وجئے واڈیٹیوار نے سوال اٹھایا کہ کیا راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) میں کبھی کسی خاتون کو سربراہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے اس بحث میں آر ایس ایس کو بھی شامل کر لیا گیا۔
وجئے واڈیٹیوار نے وزیر اعظم پر الزام لگایا کہ انہوں نے پانچ ریاستوں میں جاری انتخابات کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے اور ان کی حالیہ تقریر انتظامی کم اور سیاسی زیادہ تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ وزیر اعظم بار بار کانگریس کو ہی نشانہ کیوں بناتے ہیں، کیا یہ کسی عدم تحفظ کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ خواتین کی قیادت کو فروغ دیا ہے اور اس کی مثال ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم، صدر اور لوک سبھا اسپیکر کی صورت میں موجود ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی خواتین ریزرویشن کے معاملے پر عوام کو گمراہ کر رہی ہے اور حلقہ بندی کے عمل کو خفیہ ایجنڈے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ آسام میں بی جے پی حکومت نے پہلے ہی سیاسی فائدے کے لیے حلقہ بندی میں تبدیلیاں کی ہیں۔ وزیر اعظم کے بیانات کو “مگرمچھ کے آنسو” قرار دیتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ خواتین کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کے خلاف حکومت مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔
وجئے واڈیٹیوار نے رکن پارلیمنٹ نوینت رانا پر بھی تنقید کرتے ہوئے ان پر فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے اور سماج میں تقسیم پیدا کرنے کا الزام لگایا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح انہوں نے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ انیل بونڈے کے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف بھی کارروائی کی اپیل کی۔
انہوں نے ایک حالیہ طیارہ حادثے کے معاملے کو بھی اٹھاتے ہوئے سوال کیا کہ اب تک ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں کئی خصوصی تفتیشی ٹیمیں غیر مؤثر ہو چکی ہیں اور خدشہ ظاہر کیا کہ یہ معاملہ بھی اسی انجام کو پہنچ سکتا ہے۔
سیاسی بیان بازی کے اس بڑھتے ہوئے ماحول میں خواتین ریزرویشن کا مسئلہ اب ایک وسیع نظریاتی اور انتخابی کشمکش کا مرکز بن چکا ہے، جہاں حکمراں بی جے پی اور اپوزیشن کانگریس کے درمیان ٹکراؤ مزید تیز ہوتا جا رہا ہے۔
یو این آئی
0
