0

جموں و کشمیرکا مرکزی امداد پر انحصار برقرار،قرضوں اور واجبات میں 204 فیصد اضافہ

ریونیو اخراجات میں اضافہ، مالی نظم و نسق میں خامیوں کی نشاندہی

سرینگر//20اپریل/ جموں و کشمیر کی مالی حالت اب بھی بڑی حد تک مرکزی گرانٹس پر منحصر ہے۔ اگرچہ مقامی آمدنی میں کچھ اضافہ ہوا ہے، لیکن حکومت اپنے زیادہ تر اخراجات خود پورے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔زیادہ خرچ، بڑھتے ہوئے قرضے اور محدود وسائل نے مالی دباو ¿ کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث ترقیاتی منصوبوں کیلئے کم گنجائش بچتی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب تک مقامی آمدنی کو مضبوط نہیں بنایا جاتا، تب تک مالی خود انحصاری ایک مشکل ہدف ہی رہے گی۔کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کی تازہ رپورٹ میں جموں و کشمیر کی مالی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مرکزی زیر انتظام خطہ اب بھی مرکزی امداد پر حد سے زیادہ انحصار کر رہی ہے، جس سے طویل مدتی مالی استحکام پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔سال 2024-25کی مالیاتی رپورٹ میں بڑھتے ہوئے قرضوں، زیادہ ریونیو اخراجات، محدود سرمایہ جاتی خرچ اور مالی رپورٹنگ میں تاخیر کو اہم چیلنج قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مجموعی اخراجات 82,547.28 کروڑ روپے رہے، جس میں 85.37 فیصد حصہ ریونیو اخراجات پر مشتمل تھا۔ اس میں سے بڑی رقم تنخواہوں، پنشن اور سبسڈی جیسے لازمی اخراجات پر صرف ہوئی، جس کے باعث ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے مالی گنجائش محدود ہو گئی۔یو این ایس کے مطابق سرمایہ جاتی اخراجات بھی بجٹ تخمینوں سے کم رہے، جس سے طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں اور اثاثہ سازی کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر حکومت مالی خسارے کو مقررہ حدود میں رکھنے میں ناکام رہی، جبکہ واجبات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2020-21میں واجبات کا تناسب جی ایس ڈی پی کے 8.87 فیصد سے بڑھ کر 32024-25میں 17.21 فیصد تک پہنچ گیا۔ اگر سابق ریاست کے قرضوں کو شامل کیا جائے تو یہ تناسب 48.47 فیصد تک جا پہنچتا ہے۔تقریباً 934.02 کروڑ روپے کے غیر ادا شدہ واجبات، جن میں گارنٹی ریڈمپشن فنڈ، سودی ذمہ داریاں اور پنشن فنڈ شامل ہیں، اب بھی زیر التوا ہیں۔سی اے جی رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کے مجموعی قرضوں میں 2020 سے 2025 کے درمیان 204 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا، جو بڑھتے ہوئے مالی دباو ¿ کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت کی بڑی حد تک قرض گیری موجودہ واجبات کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جبکہ صرف 20.34 فیصد قرض ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا گیا، جو کہ معیشت کے لیے تشویشناک رجحان ہے۔رپورٹ میں سابق ریاست جموں و کشمیر کے 82,050.51 کروڑ روپے کے قرضوں کی تقسیم میں تاخیر پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے، جو جموں و کشمیر اور لداخ کے درمیان ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہے، جس سے مالی منصوبہ بندی متاثر ہو رہی ہے۔ مالی بے ضابطگیوں اور شفافیت کے مسائل کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ تقریباً 4,105.08 کروڑ روپے مالیت کے 1,395 یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹس زیر التوا ہیں، جبکہ 15,607.21 کروڑ روپے کے 3,068 اکاو ¿نٹس بھی مکمل نہیں کیے گئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالیاتی درجہ بندی میں شفافیت کا فقدان بھی ایک مسئلہ ہے، جہاں 1,941.43 کروڑ روپے کو غیر واضح مد میں درج کیا گیا۔اگرچہ 2024-25کے دوران جموں و کشمیر کی معیشت میں 11.18 فیصد کی شرح سے ترقی ہوئی، تاہم قومی جی ڈی پی میں اس کا حصہ کم ہو کر 0.79 فیصد رہ گیا ہے۔سی اے جی نے اپنی سفارشات میں آمدنی بڑھانے، اخراجات کو معقول بنانے اور ترقیاتی سرمایہ کاری کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے قرضوں پر قابو پایا جا سکے اور مالی توازن بحال کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں