0

پارلیمانی کمیٹیوں کے جموں و کشمیر دورے، سکیورٹی و ترقیاتی صورتحال کا جائزہ

داخلہ امور سمیت متعدد پینل آئندہ ماہ خطے کا دورہ کریں گے، لیفٹنٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ سے ملاقاتیں متوقع
امن، سیاحت اور گورننس سے متعلق پیغام دینے کی کوشش؛ راجیہ سبھا سیکریٹریٹ کی ہدایات بھی جاری

سرینگر//20اپریل// پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے اختتام کے بعد متعدد پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں نے آئندہ ماہ جموں و کشمیر کے دورے کا پروگرام ترتیب دیا ہے، جن میں داخلہ امور سے متعلق اہم کمیٹی بھی شامل ہے جو خطے کی سکیورٹی اور دیگر معاملات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔سرکاری ذرائع کے مطابق یہ کمیٹیاں دورے کے دوران منوج سنہا،عمر عبداللہ سرکاری افسران، پولیس حکام، سول انتظامیہ اور مختلف طبقہ ہائے فکر کے نمائندوں سے ملاقات کریں گی تاکہ زمینی صورتحال کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جا سکے۔یو این ایس کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ داخلہ امور سے متعلق قائمہ کمیٹی، جس کی سربراہی رادھا رام موہن اگروال کر رہے ہیں، اس دورے میں انسداد دہشت گردی، سرحد پار دراندازی کی روک تھام، اور امن و امان کی مجموعی صورتحال پر خصوصی توجہ دے گی۔ اس کے علاوہ دیگر کمیٹیاں ترقیاتی منصوبوں، پنچایتی راج انتخابات میں تاخیر اور مرکزی معاونت یافتہ اسکیموں کے نفاذ کا جائزہ لیں گی۔شیڈول کے مطابق یہ کمیٹی 10 مئی کو کٹرہ پہنچے گی اور 11 مئی کو ویشنو دیوی مندرمیں آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کا معائنہ کرے گی۔ اسی روز یہ کمیٹی سرینگرکیلئے روانہ ہوگی جہاں 12 مئی کو وزارت داخلہ اور یو ٹی انتظامیہ کے نمائندوں کے ساتھ ترقی، نظم و نسق اور عوامی بہبود کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔کمیٹی 13 مئی کو گلمرگ کا دورہ کرے گی تاکہ سیاحتی مقام پر سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے، جبکہ 14 مئی کو سونہ مرگ میں جموں و کشمیر پولیس کے نمائندوں سے ملاقات ہوگی۔ اس کے بعد 15 مئی کو کمیٹی کرگل پہنچ کر سرحدی سکیورٹی انتظامات اور فوج کے افسران سے تبادلہ خیال کرے گی۔ادھر راجیہ سبھا سیکریٹری نے اپنے اراکین کو ہدایات جاری کرتے ہوئے یاد دہانی کرائی ہے کہ سرکاری دوروں کے دوران کوئی بھی رکن غیر متعلقہ افراد کو ساتھ نہ لے جائے۔ تاہم خصوصی حالات میں چیئرمین کی پیشگی اجازت سے شریکِ حیات یا قریبی معاون کو ساتھ لے جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت کا ماننا ہے کہ پارلیمانی کمیٹیوں کے یہ دورے، مرکزی وفود کی آمد اور مختلف کانفرنسوں کا انعقاد جموں و کشمیر، خصوصاً وادی کشمیر میں امن کا مثبت پیغام دیں گے اور سیاحت کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گے، کیونکہ خطے میں سیاحتی سیزن بتدریج عروج پر پہنچ رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں