نجی بسیں اوربین الالضلعی کیب سڑکوں سے غائب
مسافروں کو شدید مشکلات، ٹرانسپورٹرز کا روزگار متاثر ہونے کا خدشہ
سرینگر//20اپریل// وادی کشمیر میں پیر کے روز ٹرانسپورٹرز کی جانب سے اسمارٹ سٹی بس سروس کی توسیع کے خلاف دی گئی ہڑتال کے باعث عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جب پرائیویٹ بسیں اور انٹر ڈسٹرکٹ کیب سڑکوں سے مکمل طور پر غائب رہیں۔آل جموں و کشمیر ٹرانسپورٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے ہفتہ کو وادی بھر میں ’چکہ جام‘ کی کال دی گئی تھی، جس کے نتیجے میں پیر کو بیشتر علاقوں میں ٹرانسپورٹ سروس متاثر رہی۔ ہڑتال کا مقصد حکومت کے اس منصوبے کے خلاف احتجاج کرنا ہے جس کے تحت اسمارٹ سٹی بس سروس کو دیگر اضلاع تک توسیع دینے کی تجویز ہے۔یو این ایس کے مطابق مسافروں نے اس صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گھنٹوں انتظار کے باوجود کوئی سواری دستیاب نہیں ہو سکی۔ ایک مسافر امتیاز ملک نے بتایا کہ وہ سرینگرمیں کام کرتا ہے اور اسے اپنے گھر کپوارہ جانا تھا، تاہم بسیں اور کیب دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے وہ شدید پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔مسافروں کا کہنا ہے’ہمیں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت ہو گیا ہے، لیکن کوئی سواری نہیں مل رہی،“انہوں نے کہا اور حکومت سے عوام کیلئے متبادل انتظامات کرنے کی اپیل کی۔سرکاری ذرائع کے مطابق وادی کے مختلف علاقوں میں بسیں، منی بسیں اور انٹر ڈسٹرکٹ کیب سروس بند رہی، تاہم آٹو رکشہ اور سرکاری بسیں معمول کے مطابق چلتی رہیں، جس سے جزوی طور پر ٹریفک کی روانی برقرار رہی۔ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری شیخ محمد ہیوسف نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہااور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا کہ اسمارٹ سٹی بس سروس کی توسیع کے منصوبے کو فوری طور پر روکا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مزید 200 بسیں لانے کے اعلان نے ٹرانسپورٹرز میں تشویش پیدا کر دی ہے۔مٹا نے کہا”ہم پہلے ہی حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر چکے ہیں، لیکن ہمارے خدشات کو نظر انداز کیا گیا ۔انہوں نے مزید بتایا کہ پلوامہ،کنگن،سوپور جیسے علاقوں میں اسمارٹ سٹی بس سروس کی ممکنہ توسیع نے پرائیویٹ ٹرانسپورٹرز کے درمیان روزگار کے نقصان کا خوف پیدا کر دیا ہے۔ماہرین کے مطابق ایک جانب حکومت شہری ٹرانسپورٹ نظام کو جدید اور منظم بنانے کی کوشش کر رہی ہے، تو دوسری جانب پرائیویٹ ٹرانسپورٹرز اپنے معاشی مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جس کے باعث اس طرح کے احتجاجی اقدامات سامنے آ رہے ہیں۔
