سڑکیں خونی مناظر پیش کرنے لگیں،4400اموات اور تقریباً 25 ہزار زخمی
جموں،سرینگر قومی شاہراہ سب سے مہلک، 2025 میں بھی 768 حادثات اور 172 اموات
سرینگر//20اپریل// جموں و کشمیر میں گزشتہ سات برسوں کے دوران ٹریفک حادثات میں غیر معمولی اضافہ سامنے آیا ہے، جس نے سڑکوں کو انسانی جانوں کیلئے خطرناک بنا دیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2018 سے 2025 تک مجموعی طور پر 19,872 حادثات پیش آئے، جن میں 4,441 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 23,848 افراد زخمی ہوئے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ سال 2025 میں بھی یہ سلسلہ برقرار ہے اور اب تک 768 حادثات میں 172 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔یو این ایس کے مطابق وادی کشمیر میں حادثات کی شرح مسلسل بڑھتی رہی ہے۔ 2018 میں 345 حادثات میں 46 افراد جاں بحق ہوئے اور 383 زخمی ہوئے، جبکہ 2019 میں 310 حادثات میں 45 اموات ریکارڈ کی گئیں۔ 2020 میں کووڈ-19 پابندیوں کے باعث ٹریفک کم ہونے سے حادثات کی تعداد گھٹ کر 275 رہی، تاہم 45 اموات پھر بھی ہوئیں۔2021 میں صورتحال دوبارہ بگڑنے لگی اور 331 حادثات میں 40 افراد ہلاک اور 344 زخمی ہوئے۔ 2022 میں حادثات بڑھ کر 426 ہو گئے جن میں 56 اموات ہوئیں، جبکہ 2023 میں 476 حادثات میں 56 افراد جاں بحق اور 489 زخمی ہوئے۔ 2024 کے نومبر تک 429 حادثات میں 57 اموات اور 441 زخمی ریکارڈ کیے گئے۔سب سے زیادہ خطرناک صورتحال سرینگر،جموں قومی شاہراہ پر سامنے آئی، جو خطے کی اہم ترین شاہراہ ہونے کے باوجود حادثات کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ 2018 سے 2024 تک اس شاہراہ پر 8,648 حادثات پیش آئے، جن میں 1,734 افراد جاں بحق اور 12,185 زخمی ہوئے۔سال 2019 اور 2022 میں حادثات کی تعداد 1,386 تک پہنچ گئی، جبکہ 2023 میں بھی 1,368 حادثات رپورٹ ہوئے۔ 2024 میں بھی زخمیوں کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جو اس شاہراہ کی خطرناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔جموں شہر میں بھی حادثات کی بلند شرح برقرار رہی، جہاں 2018 سے 2024 تک 7,864 حادثات میں 833 افراد جاں بحق اور 9,075 زخمی ہوئے۔2018 میں 1,246 حادثات سے آغاز ہوا، 2019 میں 1,302، 2020 میں 974، 2021 میں 1,038، 2022 میں 1,113 اور 2023 میں 1,179 حادثات ریکارڈ کیے گئے، جو اس عرصے کا سب سے زیادہ تھا۔ 2024 کے نومبر تک 1,012 حادثات میں 112 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔جموں کے دیہی علاقوں میں بھی صورتحال تشویشناک ہے جہاں 2018 سے 2024 تک 1,764 افراد جاں بحق اور 3,269 زخمی ہوئے۔ 2018 میں 293 اموات ہوئیں، 2019 میں 252، 2020 میں 182، 2021 میں 101، 2022 میں 162، 2023 میں 204 اور 2024 میں اب تک 166 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ماہرین ٹریفک اور متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ ان حادثات کی بڑی وجوہات میں ناقص سڑک ڈھانچہ، خطرناک موڑ، بلیک اسپاٹس، تیز رفتاری، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور ڈرائیوروں کی ناکافی تربیت شامل ہیں۔ن کے مطابق جدید ٹریفک مینجمنٹ سسٹم، سی سی ٹی وی نگرانی، اسپیڈ کنٹرول میکانزم، اور سڑکوں کی سائنسی بنیادوں پر بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوامی سطح پر آگاہی مہمات، ڈرائیونگ ٹریننگ پروگرامز، اور سخت قانونی کارروائی کے بغیر اس مسئلے پر قابو پانا ممکن نہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو جموں و کشمیرمیں ٹریفک حادثات کا یہ سلسلہ مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔حکام کے مطابق سڑکوں پر حفاظتی اصلاحات اب کوئی آپشن نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہیں، کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانی جانوں کا نقصان بڑھتا جا رہا ہے۔
