سرینگر//20اپریل// جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاستی درجہ کی بحالی میں تاخیر پر بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر مسلسل ابہام برقرار رکھنا عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بار بار “مناسب وقت” کی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے، لیکن اس کی کوئی واضح تشریح پیش نہیں کی جا رہی۔یو این ایس کے مطابق نوشہرہ کے سرحدی علاقے میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی درجہ کی بحالی ایک سنجیدہ وعدہ تھا تو اسے محض سیاسی نعرہ بنا کر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ انہوں نے سوال کیا”ہم بار بار پوچھ رہے ہیں کہ وہ ’صحیح وقت‘ آخر کب آئے گا؟ اگر آپ نے وعدہ کیا ہے تو کیا اس کی کوئی حیثیت نہیں؟۔“انہوں نے کہا کہ عوام کو واضح راستہ دکھانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ “’ انہوں نے کہاجس طرح طلبہ کو بتایا جاتا ہے کہ کامیابی کیلئے کتنے نمبر درکار ہیں، اسی طرح ہمیں بھی بتایا جائے کہ ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے کن شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے، تاکہ ہم اس کے مطابق آگے بڑھ سکیں۔“ بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مرکز کی جانب سے کیے گئے وعدے اب تک ادھورے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام نے مختلف سیاسی جماعتوں کو ووٹ ضرور دیا، لیکن ایک مشترکہ امید یہ تھی کہ خطے کو دوبارہ ریاستی درجہ دیا جائے گا۔انہوں نے یونین ٹیریٹری میں تبدیلی کو عوام کیلئے ایک “سزا” سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے عوامی احساسات کو مجروح کیا ہے اور اس کا ازالہ صرف ریاستی درجہ کی بحالی سے ہی ممکن ہے۔وزیر اعلیٰ نے یاد دلایا کہ بی جے پی نے ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے تین مرحلوں کا ذکر کیا تھا—حد بندی، انتخابات اور پھر ریاستی درجہ۔ انہوں نے کہا”حد بندی ہو گئی، چاہے جیسے بھی ہوئی، لیکن ہوئی۔ اس کے بعد انتخابات بھی منعقد ہوئے، بلکہ 2024 میں دو انتخابات ہوئے—پہلے پارلیمانی اور پھر اسمبلی انتخابات۔ اس کے باوجود آج ڈیڑھ سال گزر چکا ہے اور ہم پوچھ رہے ہیں کہ وہ وعدہ کہاں گیا؟۔خواتین کیلئے قانون ساز اداروں میں ریزرویشن کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی جماعت نے اس بل کی حمایت کی تھی، لیکن مردم شماری کے بغیر حد بندی کو آگے بڑھانا مناسب نہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس قانون کے پس پردہ سیاسی مقاصد کارفرما تھے۔جموں و کشمیر میں حد بندی کے عمل پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی نشستوں کی تقسیم میں توازن کا فقدان نظر آیا۔انہوں نے کہا”سات نئی نشستیں بنائی گئیں، جن میں سے چھ بی جے پی کے حصے میں آئیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حد بندی کے ذریعے سیاسی کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی۔“انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ان منصوبوں کے مکمل نتائج حاصل نہیں ہو سکے اور بعض حلقوں میں عوام نے مختلف فیصلے کیے، لیکن اس کے باوجود ان اقدامات پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔آخر میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی جماعت عوامی حقوق، جمہوری اقدار اور آئینی وعدوں کے تحفظ کیلئے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا”ہم سوال کرتے رہیں گے، ہم ان کا سامنا کرتے رہیں گے، چاہے وہ اس سے خوش ہوں یا نہ ہوں۔“
0
