20 اپریل: پہلگام حملے کو ایک سال گزرنے کو ہے اور اس دوران سکیورٹی فورسز نے جموں و کشمیر میں دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں تیز کر دیں اور اب ایک سال کے عرصہ میں چار درجن کے قریب دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔ گزشتہ برس 22اپریل کو ہوئے پہلگام حملہ میں میں 25 سیاحوں اور ایک مقامی مرکبان سمیت کل 26افراد کو دہشت گردوں نے گولیاں برساں کر ہلاک کر دیا تھا۔
جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار سہ پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ سال 22 اپریل کو ہوئے حملے کے بعد سے اب تک یونین ٹیریٹری میں تقریباً 46 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، جن میں اس حملے میں ملوث تین دہشت گرد بھی شامل ہیں۔
اس سال کے دران سیکورٹی فورسز کی سب سے بڑی کامیابی صوبہ جموں کے کشتواڑ، ادھم پور اور کٹھوعہ اضلاع میں دہشت گردوں کا خاتمہ ہے، جہاں انہیں نہ صرف بھاری اسلحہ سے لیس دہشت گردوں کا سامنا کرنا پڑا بلکہ گھنے جنگلات، خراب موسم اور غاروں جیسی قدرتی پناہ گاہوں جیسی مشکل حالات پر بھی قابو پانا پڑا، جس کی وجہ سے دہشت گرد کافی عرصہ تک چھپے رہنے میں کامیاب رہے تھے۔
بھارتی فوج اور جموں و کشمیر پولیس نے کٹھوعہ اور ادھم پور کے بالائی علاقوں میں کئی بار دہشت گردوں کا سراغ لگا کر انہیں ہلاک کیا، لیکن سب سے بڑی کامیابی انہیں کشتواڑ میں اس وقت ملی جب ممنوعہ عسکری تنظیم جیش محمد کے کمانڈر سیف اللہ کی قیادت میں ایک گروہ بار بار فورسز کو چکمہ دے رہا تھا۔
رواں برس 22 فروری کو کشتواڑ کے چھاترو جنگلات میں ایک مشترکہ آپریشن کے دوران سیف اللہ اور اس کے دو ساتھی مارے گئے، جو فورسز کے لیے ایک بڑی کامیابی تھی۔ اس سے پہلے 4 فروری کو ایک اور دہشت گرد مارا گیا تھا، جس سے فورسز کو سیف اللہ تک پہنچنے میں کامیابی ملی۔
فوج کی وائٹ نائٹ کور کے مطابق 2025 اور 2026 کے دوران کشتواڑ میں کل سات دہشت گرد مارے گئے، جو فوجیوں سمیت عام شہریوں کے قتل میں بھی ملوث تھے۔ 4 فروری کو ادھم پور کے بسنٹ گڑھ علاقے کے جوفر نامی جنگلات میں دو گرد اس وقت مارے گئے جب فورسز نے اس غار کو دھماکے سے اڑا دیا جس میں وہ چھپے ہوئے تھے۔ ان کے قبضے سے ایم فور کاربائن، اے کے 47 رائفلز اور بڑی مقدار میں گولہ بارود برآمد ہوا۔
اس سے قبل 23 جنوری کو کٹھوعہ کے بلاور نامی علاقے میں جیش محمد کا ہی ایک اور کمانڈر عثمان عرف ابو معاویہ کو ہلاک کیا گیا تھا۔ فورسز کے مطابق عثمان دو سال پہلے سرحد پار سے دراندازی کے بعد اس علاقے میں سرگرم تھا۔ پولیس، فوج، نیم فوجی دستوں اور انٹیلی جنس ایجنسیز کی مسلسل کوششوں سے دہشت گردوں کا سراغ لگا کر انہیں ختم کیا گیا۔
انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق کٹھوعہ، ادھم پور اور ڈوڈہ اضلاع کے جنگلات کے سنگم علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی اور نقل و حرکت کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں، تاہم وہ کم سرگرم دکھا رہے ہیں تاکہ فورسز کی نظر سے بچ سکیں۔
ایک انٹیلی جنس افسر نے بتایا کہ “پہلگام حملے اور آپریشن سندور کے بعد دہشت گرد دباؤ میں آ گئے ہیں۔ فورسز سخت سردی، برفباری اور بارش کے باوجود جنگلات کے اندر موجود رہی، جس سے دہشت گردوں کے لیے آزادانہ طور پر ادھر ادھر گھومنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہی حکمت عملی کشتواڑ، ادھم پور اور کٹھوعہ میں کامیاب رہی۔
دوسری جانب سرحد پار سے دراندازی کی کوششوں پر تشویش برقرار ہے۔ جموں، سانبہ اور کٹھوعہ کے سرحدی علاقوں میں مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاعات پر فورسز سرچ آپریشن کرتی رہتی ہیں۔ بی ایس ایف بین الاقوامی سرحد پر کڑی نگرانی رکھے ہوئے ہے جبکہ اندرونی علاقوں میں پولیس اور فوج مشترکہ کارروائیاں انجام دیتی ہیں۔ وہیں اب سرحد سمیت انسداد دہشت گردی آپریشنز میں جدید ٹیکنالوجی کا بھی بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے۔
22 اپریل 2025 سے 19 اپریل تک کے عرصے میں جموں و کشمیر میں 51 شہری اور 14 سکیورٹی اہلکار مارے گئے۔ پہلگام حملے میں 26 شہری ہلاک ہوئے جبکہ مئی میں آپریشن سندور کے دوران پاکستانی گولہ باری سے تقریباً 25 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ زیادہ تر شہری ہلاکتیں راجوری، پونچھ، بارہمولہ اور کپوارہ کے سرحدی علاقوں میں ہوئیں۔
یکم اپریل کو فوج نے گاندربل میں ایک دہشت گرد کو مارنے کا دعویٰ کیا، تاہم پولیس نے ابھی تک اسے دہشت گرد یا شہریوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا ہے، کیونکہ اس کی شناخت اور موت کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہے۔
