0

پہلگام حملہ برسی: کشمیر کے سیاحتی مقامات پر سیکیورٹی غیر معمولی حد تک سخت

ہائی الرٹ جاری، حساس علاقوں میں وسیع پیمانے پر فورسز کی تعیناتی اور مسلسل نگرانی
سیاحوں کے اعتماد کی بحالی کیلئے کیو آر کوڈ سسٹم، ویری فکیشن اور جدید حفاظتی اقدامات نافذ

سرینگر//19 اپریل/ کشمیر میں سیاحتی سرگرمیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی کو غیر معمولی حد تک سخت کر دیا گیا ہے کیونکہ پہلگام دہشت گرد حملہ 2025 کی پہلی برسی قریب آ رہی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق تمام سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تخریبی کارروائی کو بروقت ناکام بنایا جا سکے، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں سیاحوں کی آمد و رفت زیادہ ہوتی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ برسی سے قبل مختلف سطحوں پر سیکیورٹی جائزہ اجلاس منعقد کیے گئے، جن میں زمینی صورتحال، خطرات کے امکانات اور ردعمل کے طریقہ کار پر تفصیلی غور کیا گیا۔ سینئر افسران نے نہ صرف موجودہ انتظامات کا جائزہ لیا بلکہ اضافی اقدامات کی بھی منظوری دی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی گنجائش باقی نہ رہے۔یاد رہے کہ 22 اپریل 2025 کو بیساران میڈو، جو کہ پہلگام کا ایک خوبصورت اور مشہور سیاحتی مقام ہے، میں ایک ہولناک دہشت گرد حملہ پیش آیا تھا جس میں 26 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 25 سیاح اور ایک مقامی پونی رائیڈر شامل تھا۔ اس حملے نے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان کیا بلکہ کشمیر کی سیاحت پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کیے۔ اس واقعے کی ذمہ داری لشکر طیبہ سے وابستہ دہشت گردوں پر عائد کی گئی تھی۔یو این ایس کے مطابق اس اندوہناک واقعے کے بعد وادی میں سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی تھی اور حکام کو احتیاطی طور پر تقریباً 50 سیاحتی مقامات کو عارضی طور بند کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں سیکیورٹی آڈٹ اور خطرات کے ازسرِنو جائزے کے بعد ان مقامات کو مرحلہ وار دوبارہ کھولا گیا۔ اب تقریباً ایک سال بعد صورتحال میں بہتری آئی ہے اور اننت ناگ ضلع میں واقع پہلگام ایک بار پھر سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، جہاں بڑی تعداد میں سیاح آ رہے ہیں اور مقامی معیشت بھی بحالی کی طرف گامزن ہے۔ادھر دودھ پتھری سمیت دیگر اہم سیاحتی مقامات پر بھی سیکیورٹی فورسز کی موجودگی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ گشت کو تیز کیا گیا ہے، چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں اور حساس مقامات پر خصوصی نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ سیاحتی سرگرمیوں سے جڑے ہر پہلو کو قریب سے مانیٹر کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کو فوری طور پر روکا جا سکے۔سیاحوں کے اعتماد کی بحالی اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حکام نے کئی جدید اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں QR کوڈ پر مبنی شناختی نظام ہے، جس کے تحت تمام سروس فراہم کرنے والوں—جیسے پونی والے، ٹور گائیڈز، دکاندار اور دیگر کاروباری افراد—کو رجسٹر کیا گیا ہے۔ ہر فرد کو ایک منفرد QR کوڈ جاری کیا گیا ہے جس میں اس کی مکمل تفصیلات شامل ہیں، جیسے نام، پتہ، موبائل نمبر، آدھار نمبر، رجسٹریشن اسٹیٹس اور پولیس ویری فکیشن کی معلومات۔ سیاح اس کوڈ کو اسکین کر کے متعلقہ فرد کی شناخت کی تصدیق کر سکتے ہیں، جس سے دھوکہ دہی یا کسی بھی خطرے کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ، تمام سروس فراہم کرنے والوں کی بیک گراو ¿نڈ ویری فکیشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ صرف مستند اور قابلِ اعتماد افراد ہی سیاحوں سے براہ راست رابطہ کر سکیں۔ یہ اقدامات نہ صرف سیکیورٹی کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ سیاحوں کے اعتماد میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے حالیہ سیکیورٹی جائزہ اجلاس میں واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام حساس تنصیبات، سیاحتی مقامات اور عوامی جگہوں پر حفاظتی اقدامات کو مزید مو ¿ثر بنایا جائے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کے درمیان بہتر تال میل، فوری ردعمل کی صلاحیت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی زور دیا۔ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ سیکیورٹی کے سخت انتظامات ضروری ہیں، تاہم ان کے ساتھ ساتھ سیاحوں کے لیے دوستانہ ماحول اور آسانی بھی برقرار رکھنا اہم ہے تاکہ کشمیر کی سیاحت نہ صرف محفوظ بلکہ پرکشش بھی رہے۔ موجودہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے ایک متوازن حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں، جس کا مقصد وادی کو ایک محفوظ اور پر رامن سیاحتی مقام کے طور پر دوبارہ مستحکم کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں