0

جموں و کشمیر میں آوارہ کتوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زائد سرینگر میں 64 ہزار سے زیادہ،شہری پریشان، حملوں اور خوف میں اضافہ

سرینگر//21اپریل/ جموں و کشمیر حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ یونین ٹیریٹری میں آوارہ کتوں کی تعداد 1,52,775 تک پہنچ چکی ہے، جن میں سے صرف سرینگر شہر میں ہی 64,416 کتے موجود ہیں۔ یہ اعداد و شمار 2023 کے ایک سروے پر مبنی ہیں اور صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں شہری خاص طور پر بچے، بزرگ اور خواتین شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔یہ معلومات قانون ساز اسمبلی میں ایم ایل اے تنویراصدیق کے ایک غیر ستارہ سوال کے جواب میں فراہم کی گئیں، جس میں حکومت نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں (جون 2023 تا ستمبر 2025) کے دوران مختلف اضلاع میں 43,200 آوارہ کتوں کی نس بندی کی گئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق سرینگر میونسپل کارپوریشن نے سب سے زیادہ 21,600 کتوں کی نس بندی کی، جبکہ جموں میونسپل کارپوریشن نے 13,730 اور دیگر شہری بلدیاتی اداروں نے 7,870 کیسز انجام دیے۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کی نگرانی ایک کثیر سطحی نظام کے تحت کی جا رہی ہے، جس میں یونین ٹیریٹری اور بلدیاتی سطح کی کمیٹیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ABC موبائل ایپلیکیشنز کے ذریعے ریئل ٹائم مانیٹرنگ، مراکز پر سی سی ٹی وی نگرانی اور باقاعدہ رپورٹنگ کا نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔ تاہم، اب تک کسی آزاد تھرڈ پارٹی سے اس پروگرام کا جائزہ نہیں لیا گیا ہے، جس پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔حکام کے مطابق آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں اینیمل برتھ کنٹرول (ABC) مراکز کا قیام، مسلسل نس بندی اور اینٹی ریبیز ویکسینیشن مہم، اور عوامی مقامات سے دور مخصوص فیڈنگ پوائنٹس کا قیام شامل ہے۔ اس کے علاوہ کتوں کے لیے شیلٹرز بنانے کے لیے زمین کی نشاندہی کی گئی ہے اور موبائل نس بندی یونٹس بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں۔لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ شہریوں کو اب بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سرینگر اور دیگر علاقوں میں آوارہ کتوں کے جھنڈ رات کے اوقات میں گلی محلوں میں گھومتے نظر آتے ہیں، جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ کئی علاقوں سے بچوں اور بزرگوں پر حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ صبح و شام کے اوقات میں لوگوں کے لیے سڑکوں پر چلنا بھی خطرناک بن چکا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت کی جانب سے اقدامات کیے جا رہے ہیں، لیکن ان کا اثر زمینی سطح پر نظر نہیں آ رہا۔ کچرے کے ڈھیروں، ناقص صفائی نظام اور خوراک کی آسان دستیابی نے آوارہ کتوں کی تعداد میں اضافے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ماہرین کے مطابق جب تک صفائی کے نظام کو بہتر نہیں بنایا جاتا اور خوراک کے ذرائع کو محدود نہیں کیا جاتا، تب تک اس مسئلے پر قابو پانا مشکل ہوگا۔ اس کے علاوہ عوامی بیداری اور مو ¿ثر نفاذ بھی نہایت ضروری ہے۔حکومت نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ آف انڈیا کی ہدایات کے مطابق ایک منظم اور انسانی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس میں نس بندی، ویکسینیشن، انفراسٹرکچر کی بہتری اور عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔تاہم، بڑھتی ہوئی تعداد اور شہریوں کی مشکلات اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ اس مسئلے کے حل کے لیے مزید مو ¿ثر، فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو اس مستقل پریشانی سے نجات دلائی جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں