جموں، 24 اپریل: عقاب ویب ڈیسک//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ریاسی میں “نشہ مکت جموں و کشمیر مہم” کا باقاعدہ آغاز کیا اور عوام، اداروں اور افراد سے اپیل کی کہ وہ منشیات کے خلاف جنگ میں متحد ہو جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ لعنت معاشرے کی بنیادوں کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔
گزشتہ بارہ دنوں کی کارروائی
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ 11 اپریل سے 22 اپریل کے دوران جموں ڈویژن میں بڑی تعداد میں مقدمات درج کیے گئے اور متعدد منشیات اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا۔ تقریباً تین کروڑ روپے مالیت کی منشیات ضبط کی گئیں، جبکہ ایک کروڑ روپے کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کی گئیں۔ منشیات اسمگلروں کی جائیدادیں مسمار کی گئیں، 187 ڈرائیونگ لائسنس اور چار گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی، اور 48 منشیات فروشوں کے خلاف مالیاتی تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 15 دوا خانوں کے لائسنس بھی منسوخ کر دیے گئے۔
خواتین کمیٹیوں کا کردار
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ مہم کے آغاز سے اب تک جموں ڈویژن کے مختلف اضلاع میں 1947 خواتین کمیٹیاں قائم کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماؤں اور بہنوں کے تعاون سے معاشرے کے اس ناسور کو ختم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا: “ہمیں ایک تاریخی تحریک بنانی ہے، جو گھروں، اسکولوں، محلوں اور برادریوں سے اٹھے۔ مائیں اور بہنیں ہمارے معاشرے کی اخلاقی بنیاد ہیں اور ان کی مدد سے ہم یہ جنگ جیت سکتے ہیں۔”
دہشت گردی اور منشیات کا گٹھ جوڑ
لیفٹیننٹ گورنر نے پولیس اور تمام نافذ کرنے والے اداروں کو متنبہ کیا کہ منشیات اسمگلر اور دہشت گرد ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کام کرتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ یکساں سختی سے نمٹا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر اسمگلنگ کے راستے کی نگرانی کی جائے، ہر مالی زنجیر توڑی جائے اور ان کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر تباہ کیا جائے۔
این جی اوز اور مذہبی رہنماؤں سے اپیل
لیفٹیننٹ گورنر نے این جی اوز، سماجی کارکنان اور روحانی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ شہروں اور دیہاتوں میں اس مہم میں بھرپور حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ سماجی تنظیمیں، روحانی رہنما اور اساتذہ اس مشن کے اگلے محاذ کے محافظ ہیں اور حکومت ہر قدم پر ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
