سرینگر، 24 اپریل: عقاب ویب ڈیسک/آج ومپورہ، بڈگام میں ایک ایسا لمحہ آیا جس کا انتظار کشمیر کے محنت کش طبقے کو کئی دہائیوں سے تھا۔ مرکزی وزیر برائے محنت و روزگار ڈاکٹر منسکھ مانڈویا نے 30 بستروں پر مشتمل ملازمین کی ریاستی بیمہ کارپوریشن (ای ایس آئی سی) کے پہلے ہسپتال کا افتتاح کیا — وہ ہسپتال جو کشمیر کے مزدوروں اور ان کے خاندانوں کے لیے امید کی نئی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویا نے کہا کہ جو قوم اپنے مزدوروں کی عزت کرتی ہے، اسے ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ملک کے ہر مزدور کو وقار، تحفظ اور علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ الفاظ محض تقریر نہیں تھے — بلکہ اس ہسپتال کی ہر اینٹ میں ان کا عکس نظر آتا ہے جسے 165 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے اور جسے مستقبل میں 100 بستروں تک وسعت دی جا سکتی ہے۔
50 ہزار سے زائد مزدور خاندانوں کو فائدہ
یہ ہسپتال براہ راست 50 ہزار سے زیادہ مزدوروں اور ان کے خاندان کے افراد کو طبی سہولیات فراہم کرے گا۔ سوچیں — وہ مزدور جو صبح سویرے کام پر نکلتا ہے، جس کے بچے اسکول جاتے ہیں، جس کی بیمار ماں گھر میں انتظار کرتی ہے — اب اس کے لیے علاج کا دروازہ کھل گیا ہے۔
1989 سے سفر، آج منزل
جموں و کشمیر میں ای ایس آئی اسکیم 16 اکتوبر 1989 کو شروع ہوئی تھی، جب صرف جموں، کٹھوعہ اور سرینگر کے سات ہزار مزدور اس کے دائرے میں تھے۔ آج یہ اسکیم جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں پھیل چکی ہے اور تقریباً ایک لاکھ تراسی ہزار بیمہ یافتہ افراد اور سات لاکھ مستفیدین اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
عالمی سطح پر پہچان
ڈاکٹر مانڈویا نے بتایا کہ 2025 میں انٹرنیشنل سوشل سیکیورٹی ایسوسی ایشن نے بھارت کو “ایکسیلینس اِن سوشل سیکیورٹی” ایوارڈ سے نوازا۔ سماجی تحفظ کی شرح 2015 کے 19 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 64.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے — یہ اعداد و شمار لاکھوں عام لوگوں کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلی کی کہانی بیان کرتے ہیں۔
مزدوروں کی عزت افزائی
تقریب کا سب سے دل کو چھو لینے والا لمحہ وہ تھا جب ڈاکٹر مانڈویا نے ان مزدوروں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے اس ہسپتال کو تعمیر کیا۔ جن ہاتھوں نے یہ عمارت کھڑی کی، انہی ہاتھوں کو آج اس کی چھت تلے تحفظ ملا — یہ ہے اصل انصاف۔
تقریب میں وزارتِ محنت، ای ایس آئی سی کے سینئر افسران، مقامی انتظامیہ اور عوامی نمائندگان نے شرکت کی۔
